آئندہ 20 سال میں لاکھوں انسان خلا میں رہائش اختیار کر سکیں گے، جیف بیزوس
ایمازون اور خلائی کمپنی بلیو اوریجن کے بانی جیف بیزوس نے مستقبل میں خلائی ٹیکنالوجی کی ترقی کے حوالے سے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ دو دہائیوں میں لاکھوں افراد زمین سے باہر خلا میں رہائش اختیار کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق خلائی ٹیکنالوجی میں ترقی انسانوں کے لیے زمین سے باہر زندگی گزارنے کے نئے امکانات پیدا کرے گی۔
جیف بیزوس طویل عرصے سے خلائی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ان کی کمپنی بلیو اوریجن کا مقصد خلائی سفر کو زیادہ قابلِ رسائی بنانا اور مستقبل میں انسانوں کے لیے خلا میں سرگرمیوں کے امکانات کو وسعت دینا ہے۔
بیزوس کے تصور کے مطابق مستقبل میں چاند اور دیگر خلائی مقامات پر مختلف نوعیت کے کام انجام دینے کے لیے روبوٹس کا استعمال بڑھ سکتا ہے۔ ان کے خیال میں ایسے کام جن میں انتہائی مشکل حالات، بھاری مشینری یا مسلسل محنت درکار ہو، روبوٹس کے ذریعے زیادہ مؤثر اور کم خرچ انداز میں کیے جا سکتے ہیں۔
خلائی ماحول میں انسانوں کے لیے کام کرنا کئی چیلنجز رکھتا ہے۔ کم کششِ ثقل، شدید درجہ حرارت، تابکاری اور آکسیجن کی عدم دستیابی جیسے عوامل انسانی زندگی اور سرگرمیوں کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، مخصوص مقاصد کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس ایسے ماحول میں کام کرنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں جہاں انسانوں کی موجودگی خطرناک یا مہنگی ثابت ہو۔
چاند پر تعمیراتی کام، وسائل کی تلاش، سائنسی تحقیق اور دیگر عملی سرگرمیوں میں روبوٹک ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ روبوٹس کے ذریعے ابتدائی تعمیرات اور ضروری انفراسٹرکچر تیار کرنے کے بعد مستقبل میں انسانوں کے لیے وہاں رہائش کے امکانات بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔
تاہم لاکھوں افراد کو خلا میں آباد کرنے کا تصور ابھی کئی تکنیکی اور معاشی رکاوٹوں سے مشروط ہے۔ اس کے لیے محفوظ رہائشی مراکز، خوراک اور پانی کی مسلسل فراہمی، توانائی کے ذرائع، طبی سہولتوں اور قابلِ اعتماد نقل و حمل کے نظام کی ضرورت ہوگی۔ ان تمام ضروریات کو بڑے پیمانے پر پورا کرنا خلائی تحقیق کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔
جیف بیزوس کا یہ تصور مستقبل میں انسانوں کی خلائی سرگرمیوں کے ممکنہ پھیلاؤ کی عکاسی کرتا ہے، تاہم آئندہ 20 برس میں لاکھوں افراد کی خلا میں رہائش ایک پیش گوئی ہے، یقینی طور پر طے شدہ مستقبل نہیں۔








