پاکستان کی نئی آٹو پالیسی منظور، الیکٹرک گاڑیوں پر آئی ایم ایف کی تجویز مسترد
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے آٹو سیکٹر کے لیے پانچ سالہ نئی آٹو پالیسی کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد مقامی صنعت کو فروغ دینا، الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ اور گاڑیوں و آٹو پارٹس کی برآمدات کو 6 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔ نئی پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 18 فیصد کرنے کی آئی ایم ایف کی تجویز مسترد کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔
منظور شدہ پالیسی کے تحت 2026 سے 2031 تک بیٹری الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر 9 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 75 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 10 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز بھی پالیسی کا حصہ ہے۔
حکومت کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کے لیے فنانسنگ کی حد بڑھانے پر بھی غور کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں گاڑیوں کی فنانسنگ کی زیادہ سے زیادہ حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے اور قرض کی ادائیگی کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد صارفین کو الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے مالی سہولت فراہم کرنا ہے۔
نئی آٹو پالیسی میں درآمدی ڈیوٹیز میں مرحلہ وار کمی، مقامی سطح پر گاڑیوں کے پرزہ جات کی تیاری اور صنعت میں سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ مقامی صنعت کو مضبوط بنانے کے ساتھ عالمی منڈیوں میں پاکستانی گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی رسائی بڑھائی جائے۔
پالیسی میں گاڑیوں کے حفاظتی معیارات بہتر بنانے، صارفین کے حقوق کے تحفظ اور آٹو سیکٹر میں مسابقت کو فروغ دینے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے گاڑیوں کے معیار میں بہتری، مقامی پیداوار میں اضافے اور صنعت سے وابستہ کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے کی توقع ہے۔
نئی پالیسی پر عمل درآمد سے پاکستان کے آٹو سیکٹر میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہونے اور برآمدات میں اضافے کی امید کی جا رہی ہے۔ تاہم، فنانسنگ کی نئی حدود، ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں سے متعلق تجاویز کی حتمی عملی صورت اور نفاذ کی تفصیلات متعلقہ حکومتی نوٹیفکیشنز سے واضح ہوں گی۔








