خیبرپختونخوا حکومت کا رمضان ریلیف پیکج، موٹر سائیکل سواروں کیلئے خصوصی سبسڈی کا اعلان
پشاور: جنید طورو
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے رمضان المبارک کے دوران عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں 10 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد کو رمضان ریلیف پیکج فراہم کیا جا چکا ہے جبکہ 82 فیصد مستحقین اس سہولت سے مستفید ہو چکے ہیں۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان پیکج پر اپوزیشن کی تنقید بے بنیاد ہے اور حکومت عملی اقدامات کے ذریعے عوام کو ریلیف دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی حالات میں سب سے زیادہ متاثر موٹر سائیکل سوار طبقہ ہے، جس کیلئے حکومت نے دو ماہ کا خصوصی پیکج متعارف کرایا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موٹر سائیکل سواروں کیلئے 2200 روپے کا ریلیف پیکج رکھا گیا ہے، جس کیلئے 3 ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت 16 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ موٹر سائیکل سواروں کو ماہانہ 1100 روپے پیٹرول کی مد میں فراہم کیے جائیں گے۔
شفیع جان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے Bus Rapid Transit Peshawar کا کرایہ تاحال نہیں بڑھایا، جبکہ اخراجات میں کمی کیلئے نئی سرکاری گاڑیاں خریدنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سرکاری ہیلی کاپٹر صرف ریلیف سرگرمیوں کیلئے استعمال ہو رہا تھا اور اسی دوران حادثے کا شکار ہوا، جبکہ نیا ہیلی کاپٹر خریدنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب صوبائی وزیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں ایک ہی بار میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ عوام پر بھاری بوجھ ہے۔ ان کے مطابق اگر قیمتیں برقرار رہیں تو رواں سال عوام سے تقریباً 1500 ارب روپے اضافی وصول کیے جائیں گے جبکہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں 105 روپے فی لیٹر وفاق کو جا رہے ہیں۔
مزمل اسلم نے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو صوبائی خزانے میں صرف 15 دن کی تنخواہوں کے برابر رقم موجود تھی، تاہم اب صوبہ پانچ ماہ کی تنخواہیں ادا کرنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاق خیبرپختونخوا کو واجب الادا فنڈز فراہم نہیں کر رہا۔
افغان مہاجرین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ صوبے میں اس وقت 43 مہاجر کیمپس قائم ہیں، جبکہ واپسی کا فیصلہ وفاق نے کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت چاہتی تھی کہ یہ عمل باعزت اور منظم انداز میں مکمل ہو، جس کیلئے ایک ارب روپے سے زائد رقم بطور کرایہ فراہم کی گئی تاہم وفاق نے یہ رقم واپس نہیں کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آئندہ دو سال کے دوران صوبے کو کیش لیس معیشت کی طرف لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ پیپر لیس نظام کیلئے بھی اقدامات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی قرضوں کو کنٹرول کیا گیا ہے اور آئندہ کوئی نیا قرض نہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔








