خیبرپختونخوا کی سرکاری جامعات مالی بحران کا شکار، 25 ارب روپے بجٹ میں مختص کرنے کا مطالبہ

خیبرپختونخوا کی سرکاری جامعات مالی بحران کا شکار، 25 ارب روپے بجٹ میں مختص کرنے کا مطالبہ

پشاور:جیند طورو

فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز (فاپواسا) خیبر پختونخوا چیپٹر اور پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پیوٹا) نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں سرکاری جامعات کے لیے کم از کم 25 ارب روپے مختص کیے جائیں تاکہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو درپیش سنگین مالی بحران پر قابو پایا جا سکے۔

فاپواسا اور پیوٹا کی جانب سے جاری مشترکہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات اس وقت شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں، جن میں تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی میں تاخیر، محدود مالی وسائل اور تدریسی و تحقیقی سرگرمیوں کے لیے ناکافی فنڈز شامل ہیں۔

تنظیموں نے مؤقف اختیار کیا کہ حال ہی میں 12 جون 2026 کو پیش کیے گئے وفاقی بجٹ نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو مایوس کیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر ممالک تعلیم، تحقیق اور جدت پر بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان میں جامعات کو نظر انداز کرنا تشویشناک امر ہے۔

بیان میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، وزیرِ اعلیٰ تعلیم اور وزیر خزانہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ آئندہ صوبائی بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے خصوصی اور خاطر خواہ مالی پیکیج فراہم کریں تاکہ جامعات کی مالی مشکلات کم کی جا سکیں اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔

خصوصی طور پر جامعہ پشاور کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا ہے، جہاں ملازمین اور پنشنرز گزشتہ دو ماہ سے تنخواہوں اور پنشن سے محروم ہیں، جبکہ آئندہ ماہ کی ادائیگیوں کے لیے بھی فنڈز کی عدم دستیابی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق جامعہ پشاور نے 61 کروڑ 90 لاکھ روپے کی ضمنی گرانٹ کے لیے محکمہ اعلیٰ تعلیم اور محکمہ خزانہ کے ذریعے حکومت کو درخواست ارسال کی تھی، تاہم تاحال اس پر کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

فاپواسا اور پیوٹا نے مطالبہ کیا کہ نہ صرف جامعہ پشاور کے لیے فوری طور پر ضمنی گرانٹ جاری کی جائے بلکہ تمام سرکاری جامعات میں تنخواہوں اور پنشن کی بلا تعطل ادائیگی کے لیے ایک مستقل اور پائیدار مالی نظام بھی وضع کیا جائے۔

تنظیموں نے زور دیا کہ اعلیٰ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کی بنیاد ہے، اور اس پر کی جانے والی سرمایہ کاری دراصل انسانی وسائل، معاشی ترقی اور قومی مستقبل میں سرمایہ کاری کے مترادف ہے۔

فاپواسا خیبر پختونخوا چیپٹر کے صدر اور پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ذاکر اللہ جان نے کہا کہ اساتذہ اور ملازمین مالی مشکلات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں، تاہم ان کی بروقت تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ صوبائی حکومت اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے آئندہ بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کو مناسب ترجیح دے گی تاکہ جامعات کو مالی بحران سے نکالا جا سکے۔

More News

Crime

خیبرپختونخوا پولیس کا مائننگ ایکسپلوسیو کے دہشتگردی میں استعمال کو روکنے کیلئے حکمت عملی بنانے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا پولیس کا مائننگ بارودی مواد کے دہشتگردی میں استعمال کی روک تھام کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ پشاور:سید عدنان خیبرپختونخوا

Read More »