مفتی محمود مرکز کی اراضی پر سوالات، انتظامیہ کے نوٹسز جاری، ممکنہ کارروائی کی اطلاعات
پشاور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے پشاور میں واقع مرکزی دفتر مفتی محمود مرکز کی اراضی سے متعلق مبینہ تجاوزات کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق متعلقہ اداروں اور سروے رپورٹس میں مرکز کے بعض حصوں کی سرکاری زمین پر موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے اراضی واگزار کرانے کے لیے نوٹسز جاری کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
اطلاعات کے مطابق متعلقہ حکام سرکاری اراضی کی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں اور تجاوزات ثابت ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ تاہم، مرکز کی اراضی سے متعلق دعوؤں اور ممکنہ آپریشن کے بارے میں متعلقہ سرکاری اداروں کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔
دوسری جانب فراہم کردہ معلومات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممکنہ کارروائی کے پیش نظر مدرسے کے طلبہ اور جماعتی کارکن مرکز کے اطراف میں موجود ہیں۔ تاہم، طلبہ کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیے جانے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
مفتی محمود مرکز سے متعلق یہ معاملہ سرکاری اراضی کے استعمال، تجاوزات کے خلاف کارروائی اور قانون کے یکساں نفاذ کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ اگر سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضہ ثابت ہوتا ہے تو متعلقہ قوانین کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔
معاملے کے تمام پہلوؤں کی وضاحت کے لیے انتظامیہ، محکمہ مال اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کا مؤقف بھی اہم ہوگا، تاکہ اراضی کی ملکیت اور قانونی حیثیت سے متعلق صورت حال واضح ہوسکے۔








