خیبرپختونخوا کے 14 محکموں میں 3 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف
پشاور: تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں خیبرپختونخوا کے 14 انتظامی محکموں کے آڈٹ کے دوران 3 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں، مشکوک اخراجات اور غیر قانونی ادائیگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں سرکاری خریداری، ترقیاتی منصوبوں، ٹھیکوں اور مالیاتی کنٹرول کے نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق ایک ارب 20 کروڑ 49 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے ٹھیکوں کی منظوری میں مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جبکہ ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں میں 90 کروڑ 81 لاکھ روپے سے زائد کی اضافی اور غیر قانونی ادائیگیوں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹھیکوں کی منظوری کے دوران سرکاری خریداری کے قواعد کی خلاف ورزی، مسابقتی عمل کا فقدان، غیر مجاز افسران کی جانب سے منظوری اور لازمی سکیورٹی حاصل نہ کرنے جیسے معاملات سامنے آئے۔
اسی طرح 60 کروڑ 2 لاکھ روپے سے زائد کے غیر مجاز اور بلاجواز اخراجات پر بھی آڈٹ حکام نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔ تعمیراتی منصوبوں میں مارکیٹ ریٹس کے غلط اطلاق، اضافی نرخوں اور معاہدوں میں شامل نہ ہونے والے کاموں کی ادائیگیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
آڈٹ رپورٹ میں 37 کروڑ 85 لاکھ روپے سے زائد کے مالی نقصانات کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں ٹھیکیداروں کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزی کے باوجود کارروائی نہ کرنا بھی شامل ہے۔
مزید برآں 3 کروڑ 4 لاکھ روپے سے زائد کے جعلی اخراجات اور مشکوک ادائیگیوں، جبکہ تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک کروڑ 89 لاکھ روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اثاثوں کے انتظام اور مالیاتی کنٹرول میں بھی 4 کروڑ 7 لاکھ روپے سے زائد کی خامیاں سامنے آئی ہیں۔
آڈٹ سال 2024-25 کے پہلے مرحلے میں 28 پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران میں سے 14 انتظامی محکموں کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران 11 کروڑ 70 لاکھ روپے سے زائد کی ریکوری بھی کی گئی، جس کی آڈٹ حکام نے تصدیق کی۔
آڈٹ رپورٹ میں ان مالی بے ضابطگیوں کو سرکاری مالیاتی نگرانی، شفافیت اور احتساب کے نظام میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی قرار دیا گیا ہے۔








