ایبولا وائرس کے عالمی سطح پر پھیلنے کا خدشہ، ماہرین صحت نے خبردار کردیا
ماہرین صحت نے ایبولا وائرس کے ممکنہ عالمی پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک کو وبا سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ماہرین کے مطابق وائرس کے جغرافیائی پھیلاؤ اور مختلف ممالک میں ممکنہ منتقلی کے خدشات کے پیش نظر صحت کے نظام کو تیار رکھنا ضروری ہے۔
افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے ڈائریکٹر جنرل جین کاسیا نے خبردار کیا ہے کہ اگر ممالک نے بروقت اقدامات نہ کیے تو وائرس مزید پھیل سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ اس وبا سے مکمل طور پر محفوظ ہے۔
انہوں نے کورونا وائرس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وبا کے ابتدائی دنوں میں بھی کئی ممالک خود کو محفوظ سمجھ رہے تھے، تاہم بعد میں وائرس دنیا کے مختلف حصوں تک پھیل گیا۔ ان کے مطابق برطانیہ سمیت یورپی ممالک کو بھی ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنی طبی سہولیات اور مریضوں کی تشخیص کی صلاحیت بہتر بنانی چاہیے۔
عالمی ادارہ صحت کے یکم نومبر 2026 تک کے اعدادوشمار کے مطابق ایبولا وائرس کی موجودہ وبا کے دوران مجموعی طور پر 10 ہزار 498 تصدیق شدہ کیسز اور 5 ہزار 107 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ زیادہ تر کیسز جمہوریہ کانگو میں سامنے آئے ہیں، جبکہ کینیا اور نائیجیریا سمیت دیگر ممالک میں بھی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
ایبولا کی موجودہ وبا بنڈی بگیو وائرس کے باعث پھیلی ہے، جس کی علامات میں بخار، سر اور پٹھوں میں درد، الٹی اور اسہال شامل ہیں۔ شدید صورت میں اندرونی خون بہنے اور جسم کے اہم اعضا کے ناکارہ ہونے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔








