کلسٹر امتحانی نظام: پہلا تلخ تجربہ میٹرک کا طالب علم لاپتہ، والدین میں شدید تشویش

کلسٹر امتحانی نظام کا پہلا بڑا امتحان، میٹرک طالب علم کے لاپتہ ہونے پر تشویش کی لہر

پشاور: کاشف عارف

خیبر پختونخوا میں حال ہی میں متعارف کرائے گئے کلسٹر امتحانی نظام کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا ہے جب ضلع مردان کی تحصیل کاٹلنگ میں میٹرک کا ایک طالب علم امتحان دینے کے بعد لاپتہ ہو گیا۔ واقعے نے والدین، اساتذہ اور شہری حلقوں میں اضطراب پیدا کر دیا ہے اور نئے نظام کی افادیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق طالب علم صبح اپنے گھر سے امتحانی مرکز جانے کے لیے روانہ ہوا۔ چونکہ کلسٹر سسٹم کے تحت اس کا امتحانی مرکز اس کے اپنے اسکول کے بجائے ایک دوسرے اور نسبتاً دور دراز تعلیمی ادارے میں قائم کیا گیا تھا، اس لیے اسے معمول سے زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑا۔ اہل خانہ کے مطابق وہ مقررہ وقت پر گھر واپس نہ پہنچا تو ابتدائی طور پر تاخیر کو معمول سمجھا گیا، تاہم شام ڈھلنے اور رات گزرنے کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہ ملا تو خاندان شدید پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔

طالب علم کے والد عزیز اللہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کا امتحانی مرکز گھر سے خاصا فاصلے پر تھا اور انہیں خدشہ ہے کہ دوری اور سفری مشکلات اس واقعے کا سبب بن سکتی ہیں۔ انہوں نے حکام سے فوری کارروائی اور اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امتحانی مرکز قریبی اسکول میں قائم ہوتا تو شاید یہ صورتحال پیش نہ آتی۔

کلسٹر امتحانی نظام کے تحت طلبہ کو اپنے ہی اسکولوں کے بجائے مختلف مراکز پر امتحان دینے بھیجا جاتا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق اس اقدام کا مقصد نقل کی روک تھام اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے نفاذ سے دیہی علاقوں کے طلبہ کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دیہی علاقوں میں سرکاری اسکول اکثر آبادی کے قریب قائم ہوتے ہیں جہاں طلبہ پیدل یا سائیکل کے ذریعے پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن جب انہیں دوسرے علاقوں میں واقع امتحانی مراکز میں جانا پڑتا ہے تو سفری اخراجات، ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور سیکیورٹی خدشات جیسے مسائل شدت اختیار کر جاتے ہیں۔ بالخصوص کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے بچوں کو دور بھیجنا ذہنی دباؤ اور مالی بوجھ کا باعث بن رہا ہے۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئے نظام کے نفاذ سے قبل زمینی حقائق اور مقامی حالات کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اگرچہ نقل کی روک تھام ایک اہم مقصد ہے، لیکن اس کے لیے ایسے متبادل اقدامات بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں جن سے طلبہ کی سلامتی اور سہولت متاثر نہ ہو۔ مثال کے طور پر اپنے ہی اسکولوں میں سخت نگرانی، اضافی عملے کی تعیناتی اور جدید مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

واقعے کے بعد علاقے میں بے چینی کی فضا پائی جاتی ہے اور والدین کی بڑی تعداد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کلسٹر سسٹم پر نظرثانی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی اصلاحات کا مقصد طلبہ کو سہولت فراہم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں مزید مشکلات میں ڈالنا۔

حکام کی جانب سے تاحال واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم تلاش کا عمل جاری بتایا جا رہا ہے۔ اس افسوسناک واقعے نے تعلیمی پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے کہ شفافیت اور نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ طلبہ کی حفاظت اور سہولت کو کیسے یقینی بنایا جائے۔

More News