پاکستان ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد میں دنیا میں پہلے نمبر پر آگیا

پاکستان ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آگیا، متاثرین کی تعداد ایک کروڑ 29 لاکھ ہوگئی

پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے بڑھتے ہوئے کیسز نے صحت عامہ کے لیے سنگین خطرے کی صورت اختیار کرلی ہے، ملک میں اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 29 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پاکستان ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے دنیا میں پہلے نمبر پر آگیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی، جس میں مرض کے پھیلاؤ اور اس سے ہونے والی اموات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 20 ہزار افراد ہیپاٹائٹس کی پیچیدگیوں کے باعث جگر کے کینسر یا جگر کے سکڑنے جیسے خطرناک امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔ مرض کے باعث اموات میں اضافے نے بھی طبی ماہرین اور حکومتی اداروں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

سربراہ وزیراعظم انسداد ہیپاٹائٹس پروگرام ڈاکٹر ضیاء کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار میں پاکستان ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر 20 منٹ بعد ہیپاٹائٹس کی پیچیدگیوں کے باعث ایک شخص زندگی کی بازی ہار رہا ہے، جو اس مرض کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

بڑھتے ہوئے کیسز پر قابو پانے اور بیماری کے خاتمے کے لیے حکومت نے ہنگامی اقدامات شروع کردیے ہیں۔ وزیراعظم انسداد ہیپاٹائٹس پروگرام کے تحت اسلام آباد میں شہریوں کی مفت اسکریننگ کی جا رہی ہے، جبکہ ٹیسٹ مثبت آنے کی صورت میں مزید تشخیص اور علاج کی سہولیات بھی بلا معاوضہ فراہم کی جا رہی ہیں۔

حکام کے مطابق اس پروگرام کا دائرہ کار دیگر علاقوں تک بھی بڑھایا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن بنایا جاسکے۔ حکومت نے 2030 تک ملک سے ہیپاٹائٹس کے خاتمے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں عطائی ڈاکٹروں کے ذریعے غیر محفوظ طبی طریقہ علاج، دندان سازوں اور آپریشن تھیٹرز میں آلودہ آلات کا استعمال، غیر محفوظ انتقال خون اور استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بیماری کی روک تھام کے لیے طبی مراکز میں صفائی کے معیارات پر عملدرآمد، محفوظ انتقال خون، نئی سرنجوں کے استعمال اور عوام میں آگاہی پیدا کرنا ضروری ہے۔

پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے بڑھتے ہوئے مریضوں کی تعداد صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جبکہ 2030 تک اس مرض کے خاتمے کا حکومتی ہدف حاصل کرنے کے لیے اسکریننگ، علاج اور احتیاطی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

More News