اسلام آباد میں فضل الرحمان سے منسلک مدارس کو تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کے نوٹس جاری

اسلام آباد میں فضل الرحمان سے منسلک مدارس کو تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کے نوٹس جاری

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں تعمیراتی قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزیوں پر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدارس کی عمارتوں کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔ سی ڈی اے نے متعلقہ انتظامیہ کو غیر قانونی تعمیرات سے متعلق وضاحت اور ضروری دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

اس سلسلے میں اسلام آباد کے مدرسہ اختر العلوم کی انتظامیہ کو بھی منظور شدہ تعمیراتی نقشہ جمع نہ کرانے پر نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ سی ڈی اے نے مدرسے کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ 15 روز کے اندر عمارت کا منظور شدہ نقشہ متعلقہ حکام کے پاس جمع کرائے تاکہ تعمیراتی ضوابط کے مطابق عمارت کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جاسکے۔

سی ڈی اے کے مطابق اسلام آباد میں مختلف عمارتوں کی تعمیر کے دوران مقررہ قوانین اور ضوابط پر عملدرآمد ضروری ہے، تاہم متعلقہ مدارس کی عمارتوں میں تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزیوں اور منظور شدہ نقشوں سے متعلق معاملات سامنے آنے پر کارروائی شروع کی گئی ہے۔

اتھارٹی کی جانب سے جاری نوٹسز میں متعلقہ انتظامیہ کو مقررہ مدت کے اندر اپنی عمارتوں سے متعلق ضروری دستاویزات فراہم کرنے اور تعمیراتی بے ضابطگیوں کو دور کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سی ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ تعمیراتی قوانین کی عدم تعمیل اور نوٹسز پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ عمارتوں کو سیل کرنے سمیت دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔ اس حوالے سے مدرسہ اختر العلوم کی انتظامیہ کو بھی 15 روز کی مہلت دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں تعمیراتی سرگرمیوں کو قواعد و ضوابط کے تحت لانے اور غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام کے لیے نگرانی کا عمل جاری ہے۔ کسی بھی عمارت کی تعمیر کے لیے متعلقہ اداروں سے منظور شدہ نقشہ حاصل کرنا اور مقررہ تعمیراتی شرائط پوری کرنا لازمی ہے۔

سی ڈی اے کی جانب سے اس کارروائی کو اسلام آباد میں تعمیراتی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ متعلقہ مدارس کی انتظامیہ کو اب مقررہ مدت کے اندر نوٹسز کا جواب دینے اور مطلوبہ دستاویزات جمع کرانے ہوں گے، بصورت دیگر ان کے خلاف مزید قانونی اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

More News