الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں بڑی کمی، حکومت نے شہریوں کو خوشخبری سنا دی

الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں بڑی کمی، حکومت نے شہریوں کو خوشخبری سنا دی

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور عام شہریوں کو ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے نئی آٹو پالیسی کے اہم خدوخال کا اعلان کردیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت ہارون اختر نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ حکومت کا مقصد پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر انحصار کم کرنا اور شہریوں کو سستی الیکٹرک گاڑیاں فراہم کرنا ہے۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ الیکٹرک گاڑیاں ماحول کے لیے مفید ہیں اور حکومت عام آدمی کو سستی ٹرانسپورٹ کی فراہمی ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کے درآمدی بل میں کمی اور معیاری گاڑیوں کی دستیابی سے معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

اس موقع پر ہارون اختر نے بتایا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کردی گئی ہے، جبکہ قرض کی واپسی کی مدت بھی تین سال سے بڑھا کر پانچ سال مقرر کردی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 50 ہزار ڈالر تک کی لگژری گاڑیوں کو بھی ڈیوٹی میں رعایت دی جائے گی، جبکہ ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے ملک بھر میں چارجنگ اسٹیشنز کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔

حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا اور ملک میں جدید ٹرانسپورٹ کے نظام کو ترقی دینا ہے۔

More News