پی ٹی آئی نے 13 سال میں خیبرپختونخوا کا ستیاناس کیا، اب ہم ٹھیک کر رہے ہیں، گورنر فیصل کریم کنڈی

پی ٹی آئی نے 13 سال میں خیبرپختونخوا کا ستیاناس کیا، اب ہم ٹھیک کر رہے ہیں، گورنر فیصل کریم کنڈی

پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے گزشتہ 13 سال کے دوران خیبرپختونخوا کا ستیاناس کیا، تاہم اب صوبے کے حالات بہتر بنانے اور انتظامی و معاشی مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے قوانین متعارف کرائے جا رہے ہیں جن کے صوبے کی انتظامی اور معاشی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے سرکاری وسائل کے استعمال پر بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ہیلی کاپٹر اور دیگر حکومتی وسائل عوامی اور سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے ہوتے ہیں، انہیں ذاتی آسائش یا عیاشی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی خزانے سے حاصل ہونے والی سہولیات کا استعمال ذمہ داری اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے مولانا فضل الرحمان کے رویے پر بھی تبصرہ کیا اور دعویٰ کیا کہ انہیں اقتدار اور مراعات میں حصہ نہ ملنے کی وجہ سے مخالفت کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، تاہم صوبے اور ملک کے مفادات کو ہر چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے فیصل کریم کنڈی نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے ساتھ فیصلہ کن جنگ لڑی جائے گی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے سابقہ صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی عزم اور ریاستی کوششوں میں اسے بھرپور تعاون کرنا چاہیے تھا۔

گورنر نے خیبرپختونخوا پولیس میں افرادی قوت کی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس میں تقریباً 17 ہزار اسامیاں خالی ہیں، جنہیں جلد میرٹ کی بنیاد پر پُر کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان کے مطابق پولیس میں بھرتیوں سے نہ صرف بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے بلکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

دوسری جانب سیکرٹری داخلہ خیبرپختونخوا امجد علی خان نے سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردی پر مستقل قابو پانے کے لیے نئی اور مؤثر حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔ حساس اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور بنوں میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید اینٹی ڈرون سسٹم نصب کیے جا رہے ہیں۔

سیکرٹری داخلہ کے مطابق پولیس کو مالی طور پر مضبوط بنانے کے لیے رواں سال 70 ارب روپے جبکہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو 10 ارب روپے کے خصوصی فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ ان اقدامات کا مقصد پولیس کی استعداد کار بڑھانا، سیکیورٹی نظام کو جدید بنانا اور دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

More News