پنجاب حکومت نے دیہی علاقوں میں صفائی، توانائی کی پیداوار اور جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک اہم اور منفرد منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت صوبے بھر کے دیہات سے گوبر کے مؤثر انتظام اور اس کے استعمال کو باقاعدہ نظام کے تحت لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومتی منصوبے کے مطابق پہلی بار دیہات میں گوبر کلیکشن پوائنٹس قائم کیے جائیں گے تاکہ جانوروں کے فضلے کو بے ترتیب طور پر پھینکنے کے بجائے منظم طریقے سے جمع کیا جا سکے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد دیہی ماحول کو صاف ستھرا بنانا اور اس فضلے کو توانائی کے قابل استعمال ذرائع میں تبدیل کرنا ہے۔
اس منصوبے کے تحت پنجاب کے 25 منتخب ماڈل دیہات میں بائیو گیس پلانٹس نصب کیے جائیں گے۔ ان منصوبوں پر تقریباً 3 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ ان بائیو گیس پلانٹس کے ذریعے گوبر کو قابل استعمال گیس میں تبدیل کیا جائے گا جو گھریلو استعمال کے لیے سلنڈرز میں فراہم کی جائے گی۔
حکام کے مطابق بائیو گیس پلانٹس سے حاصل ہونے والی گیس کو کمپریس کر کے سلنڈرز میں محفوظ کیا جائے گا اور پھر اسے دیہی علاقوں میں گھروں تک پہنچایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مخصوص سیل پوائنٹس بھی قائم کیے جائیں گے جہاں سے صارفین گیس سلنڈر حاصل کر سکیں گے۔
پنجاب حکومت کے منصوبے کے مطابق ان ماڈل دیہات میں گیس کی ترسیل کے لیے باقاعدہ ڈیلیوری سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا تاکہ صارفین کو سہولت ان کی دہلیز تک فراہم کی جا سکے۔ اس نظام کے تحت گیس سلنڈرز کی ترسیل منظم اور جدید طریقے سے کی جائے گی۔
اس پورے منصوبے کی نگرانی اور آپریشن کے لیے ویلیج آرگنائزیشن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جو گیس کی فروخت، سیل پوائنٹس کے انتظام اور مجموعی نظام کو چلانے کی ذمہ دار ہوں گی۔ ان کمیٹیوں کو مقامی سطح پر بااختیار بنایا جائے گا تاکہ نظام مؤثر طریقے سے چل سکے۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد نہ صرف دیہات کی صفائی کو بہتر بنانا ہے بلکہ توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا بھی ہے۔ بائیو گیس منصوبہ دیہی معیشت میں بہتری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
ماہرین کے مطابق بائیو گیس منصوبے سے ماحول پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ جانوروں کے فضلے کو ضائع کرنے کے بجائے توانائی میں تبدیل کیا جائے گا جس سے آلودگی میں کمی آئے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ دیہی ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہے جس سے نہ صرف توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ دیہی زندگی کے معیار کو بھی بہتر بنایا جا سکے گا۔
پنجاب حکومت کے مطابق مستقبل میں اس منصوبے کو مزید دیہات تک وسعت دینے کا بھی امکان ہے تاکہ پورے صوبے میں صاف توانائی اور جدید سہولیات کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ منصوبہ دیہی علاقوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک نئی مثال قرار دیا جا رہا ہے جو ماحول دوست توانائی کے فروغ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔








