ایرانی ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا

ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی گراوٹ نے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ایک امریکی ڈالر تقریباً 18 لاکھ ایرانی ریال تک پہنچ گیا ہے، جو اس کی اب تک کی کم ترین سطح تصور کی جارہی ہے۔ جنگ کے آغاز پر یہی شرح تقریباً 17 لاکھ ریال فی ڈالر تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ کشیدگی نے ایرانی معیشت پر دباؤ میں مزید اضافہ کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خلیجی خطے میں غیر یقینی صورتحال اور آبنائے ہرمز کے گرد سیکیورٹی خدشات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی، پابندیوں کا تسلسل اور تیل کی برآمدات میں مشکلات نے ایرانی کرنسی کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ریال کی قدر میں اس تیزی سے کمی کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ، درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اور عوام کی قوتِ خرید میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

ایران کی صورتحال کا اثر دیگر ایشیائی کرنسیوں پر بھی پڑا ہے۔ انڈونیشین روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہو کر تقریباً 17 ہزار 315 فی ڈالر تک پہنچ گیا، جو اس کی کم ترین سطحوں میں شمار ہو رہا ہے۔ اسی طرح فلپائن کا پیسو بھی دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آگیا ہے جبکہ تھائی لینڈ کی کرنسی باہت میں بھی رواں ماہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ خطے میں سرمایہ کار خطرات سے بچنے کیلئے ڈالر کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے مقامی کرنسیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کم نہ ہوئی تو ایشیائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ خصوصاً توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات عالمی منڈیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

ایرانی حکومت کی جانب سے کرنسی کو مستحکم کرنے کیلئے ممکنہ اقدامات، جیسے زرمبادلہ کے ذخائر کا استعمال یا مالیاتی پالیسی میں سختی، وقتی ریلیف فراہم کر سکتے ہیں، تاہم دیرپا استحکام کیلئے سیاسی اور سفارتی سطح پر کشیدگی کا خاتمہ ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔ مجموعی طور پر موجودہ صورتحال خطے کی معیشتوں کیلئے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے۔

More News