نائب وزیراعظم کی امریکی تحویل میں جہازوں پر سوار پاکستانی اور ایرانی شہریوں کی واپسی کے لیے سنگاپور سے تعاون کی درخواست

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی تحویل میں لیے گئے بحری جہازوں پر سوار پاکستانی اور ایرانی شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں اور اس سلسلے میں سنگاپور سے باضابطہ تعاون کی درخواست کی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی تحویل میں موجود یہ جہاز اس وقت سنگاپور کے قریب سمندری حدود میں ہیں اور ان پر مجموعی طور پر 31 افراد سوار ہیں جن میں 11 پاکستانی اور 20 ایرانی شہری شامل ہیں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس معاملے پر سنگاپور کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور پاکستانی و ایرانی شہریوں کی جلد اور محفوظ وطن واپسی کے لیے عملی تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ان شہریوں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ متعلقہ افراد کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں اور ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ بین الاقوامی قوانین کے مطابق کیا جانا چاہیے۔

اسحاق ڈار نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ پاکستانی حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت اور فلاح کو اولین ترجیح دیتی ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن سفارتی اور قانونی اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی حکام سے بھی مسلسل رابطہ برقرار ہے تاکہ صورتحال کو خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکے اور تمام افراد کو جلد از جلد رہا کر کے اپنے اپنے ممالک واپس بھیجا جا سکے۔

دوسری جانب نائب وزیراعظم نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی رابطہ کیا اور موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس معاملے پر قریبی رابطے جاری رکھنے اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا۔ اسحاق ڈار نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ایرانی شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا اور اس سلسلے میں ایران کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا۔

نائب وزیراعظم نے اس نازک صورتحال میں سنگاپور کی جانب سے اب تک کیے گئے تعاون اور حمایت کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مسئلے کا جلد مثبت حل نکل آئے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ کی سطح پر بھی مسلسل پیش رفت کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور متعلقہ سفارتی مشنز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ شہریوں کی بحفاظت رہائی اور واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔

More News