آئندہ مہم جوئی کی کوشش پرجنگ کے اثرات انتہائی وسیع اورخطرناک ہوں گے، فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر

معرکۂ حق میں فتح کے ایک سال مکمل ہونے پر جی ایچ کیو راولپنڈی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمانِ خصوصی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تھے۔ تقریب میں اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت نے شرکت کی، جبکہ شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ آئندہ کسی بھی مہم جوئی کی کوشش کے نتائج نہایت وسیع اور خطرناک ہوں گے، کیونکہ مستقبل کی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنز پر مشتمل ہوں گی، جن میں زمینی، فضائی، بحری، سائبر اور معلوماتی محاذ شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ آج کا دن پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ان کے مطابق معرکۂ حق روایتی جنگ نہیں تھا بلکہ دو نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا جس میں حق کو فتح نصیب ہوئی اور باطل کو ہزیمت اٹھانا پڑی۔ فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ مئی 2025 کا واقعہ اچانک پیش آنے والا تصادم نہیں تھا بلکہ دشمن کی پرانی سوچ اور خود فریبی کا تسلسل تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت خود ساختہ واقعات کا الزام پاکستان پر لگا کر خطے میں جنگی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا تاکہ اپنی برتری ثابت کر سکے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ افواجِ پاکستان اور قوم نہ ماضی میں طاقت سے مرعوب ہوئیں اور نہ آئندہ ہوں گی۔ انہوں نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پرچم کی لاج رکھی۔ غازیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے انہوں نے صدر، وزیر اعظم، وفاقی کابینہ اور قومی و سیاسی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا۔ ان کے مطابق میڈیا اور نوجوانوں نے بھی دشمن کے بیانیے کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ یہ معرکہ صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ معاشرے کے ہر شعبے میں جیتا گیا، جہاں پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فضائیہ نے دشمن کے جنگی طیاروں کو زمین تک محدود کر دیا جبکہ بحری افواج نے دشمن کو سینکڑوں میل دور روکے رکھا۔ ان کے مطابق دشمن کے 26 سے زائد عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا اور شدید جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔ بعد ازاں دشمن کی ثالثی کی پیشکش کو خطے کے وسیع تر امن کے لیے قبول کیا گیا۔

فیلڈ مارشل نے زور دیا کہ امن قائم رکھنے کے لیے ہر وقت جنگ کے لیے تیار رہنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی تعاون کو سفارتی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ پاکستان مؤثر اور ذمہ دار سفارتکاری کے ذریعے “اسلام آباد ٹاکس” کی میزبانی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روایتی جنگ میں ناکامی کے بعد بھارت دہشت گردی کے ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہا ہے، جبکہ افغانستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردی کے مراکز کے خاتمے کے لیے استعمال کرے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام، افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان ناقابلِ تسخیر تھا اور رہے گا۔

تقریب کے اختتام پر ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف بھی شریک ہوئے۔ فیلڈ مارشل اور دیگر سربراہان نے یادگارِ شہداء پر پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی۔

More News