صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے حقوق کیلئے خیبرپختونخوا بھر میں احتجاج، تحریک ملک گیر کرنے کی دھمکی
پشاور:جنید طورو
خیبر یونین آف جرنلسٹس کی کال پر جمعہ کے روز پشاور سمیت خیبرپختونخوا بھر میں کارکن صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے حقوق کے تحفظ، جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور معاشی استحصال کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
مرکزی احتجاج پشاور پریس کلب کے سامنے منعقد ہوا جبکہ صوبے کے تمام اضلاع میں بھی صحافی برادری نے احتجاجی ریلیوں، اجتماعات اور مظاہروں میں شرکت کی۔ پشاور میں ہونے والے احتجاج میں خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کے عہدیداروں سمیت مرد و خواتین صحافیوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر میڈیا ورکرز کے حقوق، بقایا تنخواہوں کی ادائیگی، جبری برطرفیوں کے خاتمے، جرنلسٹس پروٹیکشن بل کے نفاذ اور آزادی صحافت کے حق میں نعرے درج تھے۔ شرکاء نے مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے مسلسل برطرفیوں، کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی، جبری استعفوں، ہراسانی اور معاشی استحصال کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز کے صدر شمیم شاہد، پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض اور دیگر مقررین نے کہا کہ میڈیا ورکرز کے ساتھ جاری ناانصافیاں ناقابل برداشت ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو کئی کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم رکھا جا رہا ہے جبکہ متعدد اداروں میں کارکنوں کو جبری طور پر فارغ کیا جا رہا ہے۔
مقررین نے الزام عائد کیا کہ میڈیا مالکان صحافیوں کے ساتھ غیر انسانی رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں جبکہ حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی دباؤ کے ذریعے صحافیوں کی آواز دبانے کی کوشش دراصل آزادی صحافت پر براہ راست حملہ ہے۔
مقررین نے حکومت خیبرپختونخوا سے مطالبہ کیا کہ محکمہ اطلاعات کے سرکاری اشتہارات کو کارکن صحافیوں کے بقایا جات کی ادائیگی، جبری برطرفیوں کے خاتمے اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ سے مشروط کیا جائے، جبکہ ایسے اداروں کو سرکاری اشتہارات نہ دیے جائیں جو میڈیا ورکرز کا استحصال کر رہے ہیں۔
مظاہرین نے جرنلسٹس پروٹیکشن بل کے فوری نفاذ اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا جبکہ پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کے خلاف مقدمات اور نوٹسز کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار پر حملہ قرار دیا۔
مقررین نے خبردار کیا کہ اگر میڈیا ورکرز کے مسائل فوری حل نہ کیے گئے، بقایا جات ادا نہ کیے گئے اور جبری برطرفیوں کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاجی تحریک مسلسل جاری رہے گی اور صحافی برادری اپنے حقوق کے حصول کیلئے ہر سطح پر متحد ہو کر جدوجہد جاری رکھے گی۔








