ایران امریکا معاہدے کی بازگشت، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی
ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں نے عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ پر نمایاں اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں، جس کے بعد دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس میں بھی مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً پانچ ڈالر فی بیرل کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ ستانوے ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ اسی طرح ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت بھی گھٹ کر اکیانوے ڈالر فی بیرل ہو گئی جبکہ مربن خام تیل میں ساڑھے چھ فیصد تک نمایاں کمی دیکھی گئی اور اس کی قیمت پچانوے ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں پیشرفت اور ممکنہ معاہدے کی امیدوں نے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے قیمتوں میں مزید استحکام آنے کا امکان ہے۔
تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات صرف توانائی شعبے تک محدود نہیں رہے بلکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی زبردست تیزی دیکھی گئی۔ سرمایہ کاروں نے عالمی سیاسی کشیدگی میں ممکنہ کمی کو خوش آئند قرار دیا، جس کے نتیجے میں مختلف ممالک کی مارکیٹس میں خریداری کا رجحان بڑھ گیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی مثبت اثرات نمایاں رہے جہاں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ہنڈرڈ انڈیکس تین ہزار آٹھ سو اکیاسی پوائنٹس کے اضافے کے بعد ایک لاکھ اکہتر ہزار سات سو پچیس پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر بند ہوا، جو ملکی سرمایہ مارکیٹ کیلئے اہم پیشرفت سمجھی جا رہی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں سیاسی صورتحال مزید بہتر ہوتی ہے اور تیل کی قیمتوں میں کمی برقرار رہتی ہے تو اس سے پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کو معاشی ریلیف مل سکتا ہے۔ ان کے مطابق کم تیل قیمتیں مہنگائی میں کمی اور صنعتی شعبے کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔








