مخالفین پارٹی میں اختلافات پیدا نہ کرسکے، اراکین اسمبلی کی بھرپور شرکت اتحاد کا ثبوت ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
پشاور: کاشف عارف
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ تمام تر پروپیگنڈے کے باوجود پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کی بڑی تعداد میں پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شرکت جماعت کے اتحاد کا واضح ثبوت ہے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے شریک اراکین اسمبلی کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ نہ ہمیں کوئی توڑ سکتا ہے اور نہ ہی ہم عمران خان کے نظریے سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مخالفین نے پارٹی کے اندر اختلافات پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی، تاہم اراکین اسمبلی کی کثیر تعداد میں شرکت ان کوششوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق اجلاس کا مقصد عمران خان کی صحت اور آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق پارلیمنٹیرینز کو اعتماد میں لینا ہے۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت کی ہٹ دھرمی کے باعث عمران خان کی ایک آنکھ کی 85 فیصد بینائی متاثر ہوئی ہے اور انہیں مناسب طبی سہولیات تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا علاج ان کی مرضی کے ڈاکٹروں اور اسپتال میں، ان کے اہل خانہ کی موجودگی میں کرایا جائے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ عوام دوست ہوگا اور اس میں عمران خان کے وژن کے مطابق ترقیاتی اور فلاحی منصوبے شامل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انسانی ترقی پر سرمایہ کاری کر رہی ہے اور آنے والے بجٹ میں ایسے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے جائیں گے جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر خیبرپختونخوا کے حقوق سلب کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو گیس اور گندم کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ رواں سال ضم شدہ اضلاع کے 12 ارب روپے بھی کاٹ لیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق پر صوبے کے 4500 ارب روپے سے زائد واجب الادا ہیں اور ان حقوق کے حصول کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی ساتھ ملا کر مشترکہ جدوجہد کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ خیبرپختونخوا کے عوام کے وسائل اور حقوق کا معاملہ ہے، جس کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہو کر آواز بلند کرنا ہوگی۔








