سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کو طلب کر لیا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ نے چیئرمین پی سی بی کو طلب کر لیا، مالی امور اور انتظامی معاملات پر تفصیلات طلب

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا ہے اور بورڈ کے مالی و انتظامی معاملات سے متعلق اہم تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ کمیٹی نے خاص طور پر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فرنچائزز کے مالی اعداد و شمار، بورڈ حکام کے غیر ملکی دوروں کے اخراجات اور دہری شہریت رکھنے والے افسران سے متعلق مکمل معلومات طلب کی ہیں۔

ذرائع کے مطابق قائمہ کمیٹی نے پی سی بی کے سینئر حکام کی جانب سے گزشتہ تین برسوں کے دوران کیے گئے غیر ملکی دوروں کی مکمل تفصیلات مانگی ہیں۔ ان دوروں پر آنے والے اخراجات، دوروں کے مقاصد اور حاصل ہونے والے نتائج کے بارے میں بھی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ قومی اداروں کے مالی معاملات میں شفافیت کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ عوامی وسائل کے استعمال کا مؤثر جائزہ لیا جا سکے۔

کمیٹی نے قومی کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی اور اس میں بہتری کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر بھی تفصیلی بریفنگ طلب کی ہے۔ اراکین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ قومی ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل کیوں برقرار نہیں رکھا جا سکا اور اس صورتحال کے تدارک کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

اجلاس میں دہری شہریت رکھنے والے افسران کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے متعلقہ حکام سے ایسے تمام افسران کی فہرست، ان کے عہدوں اور ذمہ داریوں سے متعلق مکمل معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ انتظامی امور میں شفافیت اور احتساب کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

علاوہ ازیں کمیٹی نے سرکاری افسران کی ترقیوں کے لیے قائم ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کے آئندہ اجلاس کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔ مینجمنٹ پے اسکیل کے تحت بھرتی کیے گئے افسران کی تنخواہوں، مراعات اور دیگر مالی فوائد کے حوالے سے وزارت خزانہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے جامع رپورٹ طلب کی گئی ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں دو حکومتی اور ایک نجی رکن کے پیش کردہ بل بھی زیر غور آئیں گے۔ کمیٹی کا اگلا اجلاس 10 جون کو منعقد ہوگا، جس میں طلب کی گئی رپورٹس اور دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

More News