امریکا کا بدلتا موقف مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، ایران
تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کا مسلسل بدلتا ہوا مؤقف ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے، جبکہ بعض اہم معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات تاحال برقرار ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستانی ثالثوں کے ذریعے جاری ہے، تاہم مذاکراتی عمل میں پیش رفت کے باوجود کئی بنیادی نکات پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر ایران اور امریکا کے درمیان واضح اختلافات موجود ہیں۔ ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کو ایک قانونی حق سمجھتا ہے اور امریکا کو ایرانی عوام کے جائز حقوق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ واشنگٹن حقیقت پسندانہ مؤقف اختیار کرے اور ایران کے بنیادی مطالبات کو تسلیم کرے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ امریکا اب تک غیر ملکی بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثوں کے معاملے پر مطلوبہ لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ بیرون ملک موجود اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے فوری طور پر جاری کیے جائیں تاکہ اقتصادی دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔
انہوں نے امریکا پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے بقول موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ امریکا کی غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز پالیسیاں ہیں۔
ایرانی ترجمان نے خبردار کیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران پر کسی قسم کا حملہ کیا گیا تو ایرانی مسلح افواج بھرپور طاقت کے ساتھ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، تاہم قومی مفادات، خودمختاری اور جوہری حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق مذاکرات کا مقصد مسائل کا پرامن حل تلاش کرنا ہے، لیکن اس کے لیے تمام فریقوں کو باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق رویہ اختیار کرنا ہوگا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کے معاملات پر سفارتی رابطے جاری ہیں، جبکہ خطے میں سکیورٹی اور سیاسی صورتحال بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔








