امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان سفارتی سرگرمیاں تیز، معاہدے کے بعد تکنیکی مذاکرات متوقع

چوبیس گھنٹوں میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کا امکان، وزیراعظم شہباز شریف 

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ انہوں نے مذاکراتی عمل میں تعاون پر امریکا اور ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد ثابت ہوگا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ “ایکس” پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ فریقین پہلے کے مقابلے میں امن معاہدے کے کہیں زیادہ قریب پہنچ چکے ہیں۔ ان کے مطابق معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد دستخط کے مراحل طے کیے جائیں گے، جبکہ اس کے بعد اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی متوقع ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس تاریخی معاہدے کے لیے الیکٹرانک دستخط سے متعلق انتظامات کی تیاری کر رہا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف خطے میں کشیدگی میں کمی لائے گی بلکہ عالمی امن کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوگی۔

دوسری جانب امریکی میڈیا ادارے “ایگزیوس” نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو ممکنہ معاہدے سے متعلق آگاہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی قیادت ایران کے بعض بنیادی ڈھانچوں پر بڑے پیمانے پر حملوں کی خواہاں تھی، تاہم امریکی صدر نے آخری لمحات میں اسرائیل کے اس منصوبے کو روک دیا۔

ایگزیوس کے مطابق اسرائیل کو ایران کے جوہری پروگرام اور مجوزہ معاہدے کی بعض شقوں پر تحفظات لاحق ہیں، جنہیں سفارتی سطح پر دور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ اور سیل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تہران گزشتہ چند ہفتوں سے اپنے حساس جوہری مواد کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے، جسے ممکنہ معاہدے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس دوران ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی اپنے بیان میں تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ طے شدہ نکات پر بلاجواز تاخیر یا شرائط کے بغیر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متوقع معاہدے کی کامیابی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

عالمی برادری کی نظریں اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس ممکنہ معاہدے کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست، سلامتی اور معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

More News