ایمل ولی خان کی حکومت اور بجٹ پر کڑی تنقید، ن لیگ پر پی ڈی ایم میں ’پیٹھ میں چھرا گھونپنے‘ کا الزام
اسلام آباد:ویب ڈیسک
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے وفاقی حکومت اور حالیہ بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) پر پی ڈی ایم اتحاد کے دوران وعدہ خلافی اور سیاسی بے وفائی کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا، جبکہ موجودہ حکومت عملی طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے وفاقی بجٹ کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے اور کہا کہ یہ واضح نہیں کہ بجٹ پاکستان نے تیار کیا ہے یا پھر بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ دستاویزات اور مالی پالیسیوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تمام فیصلے بیرونی دباؤ کے تحت کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے اپنے اراکین کو بھی بجٹ کے دن ہی معلوم ہوا ہوگا کہ بجٹ میں کیا شامل ہے۔ ان کے بقول بجٹ کی تیاری اور منظوری کے عمل میں منتخب نمائندوں کا کردار انتہائی محدود نظر آتا ہے، جس سے پارلیمانی نظام اور جمہوری عمل پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
اے این پی کے صدر نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے تیار کردہ بجٹ پاکستان کو فراہم کیا گیا ہے اور حکومت اس میں معمولی تبدیلی کرنے کی بھی پوزیشن میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت معاشی فیصلوں میں خودمختار ہوتی تو عوامی مفادات کو زیادہ اہمیت دی جاتی اور بجٹ میں عوامی ریلیف کے مؤثر اقدامات شامل ہوتے۔
ایمل ولی خان نے وفاقی کابینہ اور حکومتی ٹیم کے بعض اہم ارکان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چند شخصیات کو کبھی مسلم لیگ (ن) کی سیاسی جدوجہد کا حصہ نہیں دیکھا گیا، لیکن آج وہ اہم حکومتی فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے نظریات اور منشور پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
اپنی تقریر میں انہوں نے مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم اتحاد کے دوران اتحادی جماعتوں کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے سیاسی اتحاد میں شامل جماعتوں کا اعتماد مجروح کیا اور ان کی جماعت کو بھی نظر انداز کیا گیا۔
ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ موجودہ حکومتی پالیسیوں اور فیصلوں کو مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے سیاسی نظریات سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق آج جو فیصلے کیے جا رہے ہیں، وہ ماضی میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پیش کیے جانے والے سیاسی بیانیے اور عوامی مؤقف سے مختلف ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سینیٹ میں ایمل ولی خان کی یہ تقریر نہ صرف بجٹ پر تنقید بلکہ حکومتی کارکردگی اور اتحادی سیاست کے حوالے سے بھی ایک اہم سیاسی پیغام سمجھی جا رہی ہے۔ ان کے بیانات سے آئندہ دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بجٹ پر بحث مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔








