تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں شرکت کا فیصلہ، عوامی مسائل پر بھرپور آواز اٹھانے کا اعلان
لاہور:ویب ڈیسک
پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بھرپور شرکت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے تمام اراکین کو اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین ریاض قریشی نے کہا ہے کہ پارٹی اراکین آج اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کے بجائے پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں شرکت کریں گے اور عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کریں گے۔
اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی کے مطابق تحریک انصاف کے تمام اراکین اسمبلی بجٹ اجلاس میں بھرپور کردار ادا کریں گے اور عوام سے متعلق اہم مسائل کو ایوان میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نہ صرف بجٹ پر اپنی رائے دے گی بلکہ مہنگائی، بے روزگاری، عوامی مشکلات اور بانی پاکستان تحریک انصاف کی رہائی سمیت دیگر اہم سیاسی اور عوامی معاملات پر بھی احتجاج ریکارڈ کرائے گی۔
دوسری جانب پنجاب حکومت آج مالی سال 2026-27 کے لیے 5 ہزار 131 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ پیش کرے گی۔ ذرائع کے مطابق صوبے کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ 3 ہزار 569 ارب 60 کروڑ روپے لگایا گیا ہے، جبکہ مختلف شعبوں کے لیے خطیر رقوم مختص کرنے کی تجاویز تیار کی گئی ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 650 ارب روپے جبکہ پنشن کی ادائیگی کے لیے 505 ارب 80 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق کیے جانے کا امکان ہے۔
سماجی تحفظ کے منصوبوں کے لیے 25 ارب روپے، ستھرا پنجاب پروگرام کے لیے 150 ارب روپے اور انتظامی و آپریشنل اخراجات کے لیے 580 ارب 20 کروڑ روپے رکھنے کی تجاویز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف ترقیاتی اور سرمایہ کاری پروگراموں کے لیے 221 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
بجٹ میں بیرونی معاونت سے جاری منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے جبکہ دیگر ترقیاتی اور سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے 570 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ صحت کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 680 ارب روپے کے بجٹ کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ عوام کو مفت ادویات کی فراہمی کے لیے 100 ارب روپے خرچ کیے جانے کی تجویز ہے۔
تعلیم کے شعبے کو بھی بجٹ میں خصوصی اہمیت دی گئی ہے اور اس مقصد کے لیے 900 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ، الیکٹرک اسکوٹیز اور سائیکل اسکیموں کو بجٹ کا حصہ بنایا گیا ہے، جبکہ ہونہار اسکالرشپ پروگرام کے لیے 20 ارب روپے سے زائد اور یونیورسٹی گرانٹس کے لیے 18 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
فلاحی منصوبوں کے تحت پرواز کارڈ پروگرام کے لیے 7 ارب روپے، رمضان پیکج کے لیے 35 ارب روپے اور مختلف شعبوں میں سبسڈی کی مد میں 80 ارب روپے سے زائد مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ کسان کارڈ پروگرام کے لیے 10 ارب روپے جبکہ ہمت کارڈ اور اقلیتی کارڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجاویز بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پنجاب اسمبلی کا آج کا اجلاس نہ صرف صوبائی بجٹ کی منظوری کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے بلکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی محاذ آرائی بھی ایوان میں نمایاں رہنے کا امکان ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے اجلاس میں بھرپور شرکت کے فیصلے کے بعد بجٹ اجلاس میں گرما گرم بحث اور احتجاج متوقع ہے۔








