افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، 2022 سے ہزاروں فوجی اور شہری شہید ہو چکے ہیں: خواجہ آصف
اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 2022 سے اب تک افغانستان کی صورتحال کے باعث پاکستان کے ہزاروں فوجی جوان اور شہری جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، جبکہ پاکستان مسلسل یہ مطالبہ کرتا آ رہا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خطاب کا جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ رابطوں اور مذاکرات کے حوالے سے ہمیشہ سنجیدہ کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ پاکستان نے افغان قیادت سے رابطہ نہیں کیا۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ وہ دو مرتبہ افغانستان کا دورہ کر چکے ہیں جہاں افغان قیادت کے ساتھ تفصیلی مذاکرات ہوئے۔ ان کے مطابق کابل کے علاوہ ترکیہ اور قطر میں بھی افغان رہنماؤں سے متعدد ملاقاتیں اور مذاکراتی نشستیں ہوئیں، جن میں قطر کے اعلیٰ حکام بھی شریک رہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ مذاکرات کے دوران افغان قیادت پاکستان کے تحفظات کو تسلیم کرتی تھی، تاہم وہ کسی تحریری معاہدے پر آمادہ نہیں ہوتی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان ملاقاتوں میں ملا عمر کے صاحبزادے بھی افغان وفد کی قیادت کا حصہ تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی یا کسی بھی قسم کی تخریبی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں کے دوران لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے اور مختلف سفارتی اقدامات کے نتیجے میں خلیجی خطے میں بھی امن کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔







