امریکہ اور ایران بحران میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان کی کامیاب ثالثی کا نمایاں چہرہ بن کر ابھرے: دی ڈپلومیٹ رپورٹ
معروف عالمی جریدے “دی ڈپلومیٹ” کی حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایک ذمہ دار اور مؤثر سفارتی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف خطے میں امن کی امیدیں مضبوط ہوئیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص بھی مثبت انداز میں اجاگر ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں پاکستان کو اکثر دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام اور معاشی مشکلات کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، تاہم حالیہ برسوں میں ملک کی سفارتی حکمت عملی اور علاقائی معاملات میں فعال کردار نے اس تاثر کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی حساس صورتحال کے دوران پاکستان ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق اس سفارتی کامیابی کے پس منظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران بحران کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں کو منظم، مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے میں ان کا کردار کلیدی نوعیت کا تھا، جس کی بدولت پاکستان بین الاقوامی سطح پر ایک مثبت قوت کے طور پر ابھرا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نومبر 2022 میں آرمی چیف کا منصب سنبھالنے کے بعد سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا قومی اور بین الاقوامی سطح پر اثر و رسوخ نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ عالمی رہنماؤں کے ساتھ روابط، علاقائی امن کے لیے کوششیں اور پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت نے انہیں ایک اہم سفارتی شخصیت کے طور پر متعارف کرایا ہے۔
دی ڈپلومیٹ نے اپنی رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے ہونے والی کوششوں میں پاکستان کا کردار مستقبل میں خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔ جریدے کے مطابق پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معاملات میں بھی تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر خود کو منوایا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے اس کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر توجہ اور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔








