عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھنے لگا
لندن/نیویارک: مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری جغرافیائی اور سیاسی تناؤ نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر محتاط حکمت عملی اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 4 فیصد اضافے کے بعد 87.33 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو گزشتہ کئی ماہ کی بلند ترین سطح تصور کی جا رہی ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی تقریباً 4 فیصد اضافے کے ساتھ 82.09 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق عالمی سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی طلب میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کی سب سے بڑی وجہ یہ خدشہ ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کرتی ہے تو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور ایل این جی کی بڑی مقدار مختلف ممالک کو سپلائی کی جاتی ہے۔ اگر اس راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوئی تو عالمی توانائی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
خام تیل کے ساتھ ساتھ دیگر توانائی مصنوعات، جن میں گیسولین، قدرتی گیس اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) شامل ہیں، کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ توانائی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں۔
خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات عالمی اسٹاک مارکیٹس پر بھی واضح طور پر دیکھے گئے۔ امریکا کی وال اسٹریٹ میں سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیا، جس کے باعث اہم انڈیکسز دباؤ کا شکار رہے۔ اسی طرح یورپ اور ایشیا کی بڑی اسٹاک مارکیٹس میں بھی منفی رجحان دیکھا گیا، جبکہ جاپان، جنوبی کوریا اور چین کی ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار رہتی ہیں تو پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں درآمدی بل میں نمایاں اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں وسعت، روپے کی قدر پر دباؤ اور مہنگائی میں اضافے کے خدشات بڑھ جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم مصنوعات، ٹرانسپورٹ، بجلی اور صنعتی پیداوار کی لاگت میں اضافے کے باعث عام شہری بھی براہ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی عالمی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط دکھائی دیے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ملکی معیشت، کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے ماحول پر اثرانداز ہو سکتی ہیں، جبکہ حکومت کو درآمدی اخراجات پر قابو پانے کے لیے اضافی اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دن عالمی منڈیوں کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آتی ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے، تاہم اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی پر مرتب ہوں گے۔








