ایل این جی مزید مہنگی، پاکستان نے مہنگا ترین ایل این جی کارگو خرید لیا

ایل این جی مزید مہنگی، پاکستان نے جولائی کا سب سے مہنگا اسپاٹ کارگو خرید لیا

اسلام آباد: عالمی منڈی میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان نے جولائی 2026 کے لیے ایک اور اسپاٹ ایل این جی کارگو خرید لیا ہے، جو رواں ماہ حاصل کیے جانے والے تمام اسپاٹ کارگوز میں سب سے مہنگا قرار دیا جا رہا ہے۔ توانائی کے شعبے سے متعلق ذرائع کے مطابق مہنگی ایل این جی کی خریداری سے ملک کے درآمدی اخراجات میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) نے 27 اور 28 جولائی کی ترسیل کے لیے عالمی اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کارگو 21.88 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے نرخ پر خریدا ہے۔ یہ قیمت جولائی کے دوران خریدے گئے دیگر اسپاٹ کارگوز کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے، جس کی وجہ عالمی توانائی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی طلب، محدود دستیابی اور قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کو قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایل این جی کارگو کی خریداری کے لیے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کی جانب سے بین الاقوامی ٹینڈر جاری کیا گیا تھا، تاہم حیران کن طور پر صرف ایک کمپنی نے بولی جمع کرائی۔ دستیاب واحد پیشکش کا جائزہ لینے کے بعد اسی بولی کو منظور کرتے ہوئے معاہدہ مکمل کیا گیا۔

اس سے قبل پاکستان جولائی کے لیے ایک اور اسپاٹ ایل این جی کارگو 20.69 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے نرخ پر خرید چکا ہے۔ تازہ معاہدہ سابقہ خریداری کے مقابلے میں 1.19 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو زیادہ مہنگا ہے، جو عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی عکاسی کرتا ہے۔

توانائی ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، عالمی سپلائی چین کے مسائل اور اسپاٹ مارکیٹ میں محدود دستیابی کے باعث ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ چونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی گیس پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔

مہنگی ایل این جی کی درآمد سے پاکستان کے درآمدی بل پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہا تو اس کے اثرات گیس کے نرخوں اور بجلی کی پیداواری لاگت پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے، جس سے صارفین کے لیے توانائی مزید مہنگی ہو سکتی ہے۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت ایک جانب طویل المدتی معاہدوں کے ذریعے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب فوری طلب کو پورا کرنے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگے داموں ایل این جی خریدنا ناگزیر ہو جاتا ہے تاکہ ملک میں گیس کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کا نظام متاثر نہ ہو۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں توانائی کے شعبے میں بہتر منصوبہ بندی، متبادل ذرائع اور طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہوگا تاکہ عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

More News