پاکستان اور قطر پھر متحرک، ایران اور امریکا کو نئی تجاویز پیش، نئے معاہدے کی امید روشن، تہران نے تصدیق کردی

پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز، ایران اور امریکا کو نئی تجاویز پیش، امن معاہدے کی امید بڑھ گئی

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جاری تنازعات کے خاتمے کے لیے پاکستان اور قطر ایک بار پھر سفارتی طور پر متحرک ہوگئے ہیں۔ دونوں ممالک نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مشترکہ امن فارمولا پیش کیا ہے، جس کے تحت فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور قطر کی جانب سے پیش کیے گئے فارمولے میں امریکا اور ایران سے دو ہفتوں کے لیے عارضی جنگ بندی کرنے اور 9 جولائی سے پہلے کی پوزیشن پر واپس جانے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنا، تعطل کا شکار سفارتی عمل کو دوبارہ شروع کرنا اور مستقل امن کے لیے مذاکرات کا راستہ ہموار کرنا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ تہران کو پاکستان اور قطر کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز موصول ہوچکی ہیں، جن کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں کشیدگی کم کرنے والی ہر سفارتی کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے، تاہم فی الحال ان تجاویز کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے بھی سفارتی حل کے لیے آمادگی کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکانات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور بات چیت براہ راست یا بالواسطہ کسی بھی طریقے سے آگے بڑھ سکتی ہے۔

سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان اور قطر کی کوششوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر دونوں فریق اس فارمولے پر اتفاق کرتے ہیں تو آئندہ مرحلے میں خطے کے دیگر تنازعات، جن میں جنوبی لبنان اور غزہ کی صورتحال شامل ہے، پر بھی بات چیت کا راستہ کھل سکتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان نے سفارتی کوششوں کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔ تاہم آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات اور بڑھتے ہوئے علاقائی اختلافات کے باعث صورتحال دوبارہ کشیدہ ہوگئی تھی، جس کے بعد عالمی سطح پر امن کے لیے نئی کوششوں کی ضرورت محسوس کی گئی۔

پاکستان اور قطر کی حالیہ سفارتی پیش رفت کو خطے میں امن کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے ایک اہم موقع فراہم کر سکتی ہے۔

اگر یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے تو نہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کو درپیش خطرات بھی کم ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی تیل کی منڈی میں بے یقینی کی صورتحال بہتر ہونے اور خطے میں وسیع تر امن کی راہ ہموار ہونے کی امید بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

More News