جن کے نام پر گھر نہیں، ان کے لیے حکومت کا بڑا تحفہ، وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت آسان شرائط پر ہاؤسنگ قرضوں کا اعلان
اسلام آباد: پہلی بار اپنا گھر خریدنے کے خواہشمند پاکستانی شہریوں کے لیے حکومت نے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت سبسڈی یافتہ ہاؤسنگ فنانس اسکیم کو مزید مؤثر بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تمام کمرشل اور مائیکروفنانس بینکوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ جن شہریوں کے نام پر پہلے سے کوئی رہائشی مکان موجود نہیں، انہیں ترجیحی بنیادوں پر آسان شرائط کے ساتھ ہاؤسنگ قرضے فراہم کیے جائیں تاکہ عام آدمی کے لیے ذاتی گھر کا خواب حقیقت میں بدل سکے۔
اس اسکیم کا بنیادی مقصد ملک میں ایک کروڑ سے زائد گھروں کی کمی کو مرحلہ وار کم کرنا، متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کو اپنے گھر کی سہولت فراہم کرنا، تعمیراتی شعبے کو فروغ دینا اور اس کے ذریعے معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ہاؤسنگ سیکٹر کی ترقی سے درجنوں دیگر صنعتوں کو بھی فائدہ پہنچے گا، جس سے مجموعی قومی معیشت کو تقویت ملے گی۔
یہ اعلان اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکر اسلامک فنانس گروپ غلام محمد عباسی نے “وزیراعظم اپنا گھر پروگرام، گھر ہو تو اپنا” کے عنوان سے منعقدہ ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ اہل شہریوں کو شفاف، آسان اور تیز رفتار طریقہ کار کے تحت ہاؤسنگ قرضے فراہم کیے جائیں تاکہ ملک میں گھروں کی کمی کو دور کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت 65 سال تک عمر رکھنے والے تمام پاکستانی شہری قرض کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ اگر کسی درخواست گزار کی عمر اس سے زیادہ ہو تو وہ اپنے بچوں یا خاندان کے دیگر ملازمت پیشہ افراد کے ساتھ مشترکہ درخواست جمع کرا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ ایک قرض کے لیے زیادہ سے زیادہ چار افراد مشترکہ طور پر درخواست دے سکتے ہیں، جس سے قرض کی ادائیگی کی صلاحیت بھی بہتر ثابت ہوگی۔
غلام محمد عباسی کے مطابق اس اسکیم میں کسی مخصوص پیشے سے وابستگی کی شرط نہیں رکھی گئی۔ سرکاری ملازمین، نجی اداروں کے ملازمین، صحافی، وکلا، ججز، اساتذہ، فوجی اہلکار، کاروباری افراد، مزدور، کاشتکار اور دیگر تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کے نام پر پہلے سے کوئی ذاتی رہائشی مکان موجود نہ ہو۔
اسٹیٹ بینک نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی اس اسکیم میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اوورسیز پاکستانی بھی وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت ہاؤسنگ فنانس حاصل کر سکیں گے، جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ملکی ہاؤسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔
اسکیم کے تحت تنخواہ دار اور بغیر تنخواہ سلپ رکھنے والے دونوں طرح کے افراد قرض کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ ماہانہ آمدنی کی کوئی مخصوص حد مقرر نہیں کی گئی، تاہم قرض کی منظوری درخواست گزار کی مالی استطاعت، آمدنی اور ادائیگی کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دی جائے گی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق قرض کی ماہانہ قسط درخواست گزار کی مجموعی ماہانہ آمدنی کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی، جبکہ اضافی ذرائع آمدن کو بھی قرض کی منظوری کے وقت شامل کیا جائے گا۔
اسکیم میں کئی اہم مالی سہولیات بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ قرض کی حد ایک کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ پہلے دس سال تک صرف 5 فیصد رعایتی شرح منافع وصول کی جائے گی۔ اگر قرض کی مدت 20 سال ہوگی تو آخری دس سال کے لیے مارکیٹ ریٹ کے مطابق منافع لاگو ہوگا۔ اس کے علاوہ بینک قرض کی درخواست جمع کرانے پر کسی بھی قسم کی پروسیسنگ فیس وصول نہیں کریں گے، جس سے درخواست گزاروں پر اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 سے اب تک ایک لاکھ سات ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے تقریباً 80 فیصد درخواستیں ستمبر 2025 کے بعد جمع کرائی گئیں۔ اب تک 27 ہزار سے زائد درخواستیں منظور کی جا چکی ہیں، جبکہ تقریباً 13 ہزار درخواستیں مختلف وجوہات کی بنا پر مسترد کی گئیں۔ 30 جون 2026 تک 6 ہزار سے زائد قرضے جاری کیے جا چکے ہیں، جن کا اوسط حجم 48 لاکھ روپے رہا، جبکہ مجموعی طور پر 26 ارب روپے سے زائد کے قرضے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
مزید برآں، اسٹیٹ بینک کے مطابق 30 جون 2026 تک پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس کے 293 ارب روپے کے قرضے زیر گردش تھے، جو 65 ہزار 414 قرض لینے والوں کو فراہم کیے گئے۔ فی قرض اوسط رقم تقریباً 45 لاکھ روپے رہی، جبکہ ہاؤسنگ فنانس کے نان پرفارمنگ لونز (NPLs) کی شرح صرف 5.6 فیصد ہے، جو اس شعبے کی نسبتاً بہتر کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔
غلام محمد عباسی نے بتایا کہ اس وقت 70 سے 80 فیصد درخواستیں آن لائن موصول ہو رہی ہیں، جبکہ حکومت جلد وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے لیے ایک خصوصی آن لائن پورٹل متعارف کرائے گی، جس سے درخواست دینے، دستاویزات جمع کرانے اور قرض کی منظوری کا عمل مزید آسان، تیز اور شفاف بنایا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے بینکوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ہاؤسنگ فنانس میں ممکنہ نقصانات کا ابتدائی 10 فیصد حکومت خود برداشت کرے گی، جس سے بینک زیادہ اعتماد کے ساتھ شہریوں کو قرض فراہم کر سکیں گے۔
حکومت کو امید ہے کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے ذریعے لاکھوں پاکستانی خاندان اپنے ذاتی گھر کا خواب پورا کر سکیں گے، جبکہ اس منصوبے سے تعمیراتی صنعت، سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور مجموعی ملکی معیشت کو بھی نمایاں فروغ حاصل ہوگا۔








