سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کیلیے فیلڈ مارشل سمیت پوری قوم سعودیہ کیساتھ کھڑی ہے، وزیراعظم کی ولی عہد سے گفتگو

وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، سعودی عرب کی سلامتی کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے بحیرۂ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حوثی باغیوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حکومت، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، مسلح افواج اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کے دوران کہا کہ بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا نہ صرف بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بحری آمدورفت کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملے خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں اور عالمی برادری کو ان کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ امن، استحکام اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کا حامی رہا ہے اور ہر اس اقدام کی مخالفت کرتا ہے جو خطے میں کشیدگی بڑھانے یا عالمی تجارتی راستوں کو متاثر کرنے کا سبب بنے۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان بحیرۂ احمر، آبنائے ہرمز اور دیگر اہم بحری گزرگاہوں میں محفوظ اور بلا تعطل قانونی سمندری تجارت کے فروغ کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، علاقائی سلامتی اور دوطرفہ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات مشترکہ مذہبی، تاریخی اور برادرانہ رشتوں پر قائم ہیں، جو ہر مشکل وقت میں مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت اور درازیٔ عمر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا اور سعودی قیادت کے لیے پاکستان کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

اس موقع پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی مستقل حمایت، برادرانہ تعلقات اور ہر مشکل وقت میں ساتھ دینے پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

دوسری جانب حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جن کے بارے میں ان کا مؤقف ہے کہ وہ ان کی جانب سے عائد بحری پابندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق یہ کارروائی ان کی بحری ناکہ بندی کے نفاذ کے سلسلے میں کی گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان یہ رابطہ پاکستان اور سعودی عرب کے مضبوط سفارتی اور دفاعی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں دونوں ممالک کا قریبی تعاون نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا بلکہ مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور عالمی بحری تجارت کے تحفظ کے لیے بھی اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

More News