آسیان ریجنل فورم میں اسحاق ڈار کا خطاب، پاکستان نے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے عزم کا اعادہ کر دیا
منیلا: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 33ویں آسیان ریجنل فورم (ASEAN Regional Forum) سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں سفارتکاری، مکالمہ اور مؤثر کثیرالجہتی تعاون ہی تنازعات کے حل اور پائیدار امن کے قیام کا واحد راستہ ہیں۔
اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں منیلا پلان آف ایکشن 2036 پر مؤثر عمل درآمد کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ ایسے اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو خطے میں امن، اقتصادی ترقی اور باہمی اعتماد کو فروغ دیں۔
انہوں نے جموں و کشمیر کے تنازعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق منصفانہ طریقے سے حل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس مسئلے کے پرامن حل کی حمایت جاری رکھے گا اور عالمی برادری کو بین الاقوامی قوانین کے احترام اور تنازعات کے سفارتی حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
نائب وزیراعظم نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے یکطرفہ فیصلے نہ صرف بین الاقوامی معاہدوں کی روح کے منافی ہیں بلکہ 25 کروڑ پاکستانیوں کے آبی مفادات کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام علاقائی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
اسحاق ڈار نے غزہ کی موجودہ انسانی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
انہوں نے دہشت گردی کو عالمی امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے پورے خطے میں تجارت، روابط اور معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔
نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل، “ون چائنا پالیسی” کی حمایت اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے عالمی برادری کو مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
اسحاق ڈار نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ خودمختاری، باہمی احترام، مساوات اور سفارتکاری ہی مشترکہ اور محفوظ مستقبل کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ اختلافات کو طاقت کے بجائے مذاکرات اور تعاون کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ خطے اور دنیا میں دیرپا امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔








