ملک کے بڑے آبی ذخائر میں پانی کی سطح کم ہو کر 47 فیصد رہ گئی
اسلام آباد: ملک کے بڑے آبی ذخائر میں پانی کی مجموعی سطح تشویشناک حد تک کم ہو کر صرف 47 فیصد رہ گئی ہے، جس کے بعد ماہرین نے مستقبل میں پانی کی دستیابی، زرعی ضروریات اور آبپاشی کے نظام پر ممکنہ دباؤ کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ وزارتِ آبی وسائل کی تازہ دستاویزات کے مطابق ملک کے تین بڑے آبی ذخائر تربیلا ڈیم، منگلا ڈیم اور چشمہ بیراج میں پانی کی مقدار گزشتہ برس کے مقابلے میں کم ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے آبی وسائل کے مؤثر انتظام کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
دنیا نیوز کو موصول ہونے والی وزارتِ آبی وسائل کی دستاویزات کے مطابق 20 جولائی تک تربیلا، منگلا اور چشمہ میں مجموعی طور پر 6.19 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ تھا، جبکہ ان تینوں آبی ذخائر کی مجموعی گنجائش 13.149 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اس طرح دستیاب پانی کل گنجائش کا صرف 47 فیصد رہ گیا ہے، جو ماہرین کے مطابق مستقبل میں پانی کی طلب پوری کرنے کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتا ہے۔
دستاویزات کے مطابق ملک کے سب سے بڑے آبی ذخیرے تربیلا ڈیم میں اس وقت اپنی مجموعی ذخیرہ گنجائش کا تقریباً 58 فیصد پانی موجود ہے، جبکہ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح صرف 40 فیصد تک محدود ہو چکی ہے۔ اسی طرح چشمہ بیراج میں صورتحال مزید تشویشناک ہے، جہاں صرف 23 فیصد پانی ذخیرہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بارشوں اور دریاؤں میں پانی کی آمد معمول سے کم رہی تو آنے والے مہینوں میں یہ سطح مزید گر سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تربیلا اور منگلا ڈیموں میں پانی کے ذخائر میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ حالیہ مون سون بارشیں بعض علاقوں میں جاری ہیں، تاہم صرف بارشوں پر انحصار پانی کے دیرپا مسئلے کا حل نہیں۔ ملک کو طویل المدتی آبی منصوبہ بندی، نئے ذخائر کی تعمیر، نہری نظام کی بہتری اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کے ذخائر میں کمی کا براہِ راست اثر زرعی شعبے پر پڑ سکتا ہے، کیونکہ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ پانی کی قلت کی صورت میں فصلوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف کسانوں کو مالی نقصان ہوگا بلکہ خوراک کی فراہمی اور قیمتوں پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ خاص طور پر کپاس، چاول، گنا اور دیگر اہم فصلوں کی کاشت کے لیے مناسب مقدار میں پانی کی دستیابی انتہائی ضروری ہے۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پانی کے دانشمندانہ استعمال، جدید آبپاشی نظام، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے اور نئے آبی ذخائر کی تعمیر پر فوری توجہ دی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی بڑھتی طلب کے پیش نظر قومی سطح پر جامع آبی پالیسی پر مؤثر عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
وزارتِ آبی وسائل کے مطابق آبی ذخائر کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کو پانی کے مؤثر انتظام اور وسائل کے بہتر استعمال کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت منصوبہ بندی نہ کی گئی تو مستقبل میں پانی کی قلت ملکی معیشت، زراعت اور عوامی زندگی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔








