پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
اسلام آباد: پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ملک بھر میں 15 روزہ ہڑتال کی کال واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں بند پٹرول پمپ دوبارہ کھل گئے ہیں اور شہریوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ ہڑتال کی کال واپس لینے سے ایندھن کی ممکنہ قلت اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں میں پیدا ہونے والے بحران کے خدشات بھی وقتی طور پر ٹل گئے ہیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یومیہ ردوبدل کے مجوزہ نظام پر نظرثانی کرنے اور ڈیلرز کے دیگر مطالبات پر مثبت پیش رفت کی یقین دہانی کرائی ہے، جس کے بعد احتجاج کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پٹرولیم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حکومت نے آئندہ 15 روز کے دوران ان کے تحفظات دور کرنے اور منافع کے مارجن سمیت دیگر معاملات پر پیش رفت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر ہمایوں خان نے دعویٰ کیا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کے نظام پر نظرثانی کے لیے آمادہ ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق فی الحال یومیہ قیمتوں میں ردوبدل کے طریقہ کار کو روکنے پر اتفاق کیا گیا ہے، جبکہ ڈیلرز کے منافع کے مارجن سے متعلق سمری بھی آئندہ 15 روز کے اندر جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
ہمایوں خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ڈیلرز کے مسائل کو سنجیدگی سے سنا اور ان کے جائز مطالبات پر مثبت رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے تعاون اور مذاکرات کی کامیابی کے بعد ایسوسی ایشن نے ملک گیر شٹ ڈاؤن کی کال واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر طے شدہ مدت میں وعدوں پر عمل نہ ہوا تو آئندہ کا لائحہ عمل مشاورت کے بعد طے کیا جائے گا۔
دوسری جانب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے مسلسل چوتھے روز بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے باعث صارفین پہلے ہی مہنگے ایندھن کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات پاکستان میں بھی نمایاں ہو رہے ہیں، جس سے ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یومیہ ردوبدل کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے ملک بھر میں 15 روزہ ہڑتال کی کال دی تھی، جس کے بعد متعدد شہروں میں پٹرول پمپ بند ہو گئے تھے۔ اس صورتحال نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی تھی اور مختلف مقامات پر پٹرول کے حصول کے لیے رش بھی دیکھنے میں آیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہڑتال کی کال واپس لینے سے فوری طور پر ایندھن کی فراہمی معمول پر آ جائے گی، تاہم پٹرولیم شعبے کے دیرینہ مسائل کے مستقل حل کے لیے حکومت اور ڈیلرز کے درمیان مؤثر مذاکرات اور واضح پالیسی ناگزیر ہے۔ عوام بھی اس بات کے منتظر ہیں کہ حکومت نہ صرف ڈیلرز کے تحفظات دور کرے بلکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے بھی عملی اقدامات کرے تاکہ مہنگائی کے دباؤ میں کچھ کمی آ سکے۔








