پیٹرول لاگت سے 125 روپے 42 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 112 روپے 54 پیسے مہنگا

پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں لیوی، ٹیکسز اور مارجنز کا بڑا حصہ، صارفین پر بھاری بوجھ برقرار

اسلام آباد: ملک میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بنیادی لاگت کے مقابلے میں لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز کی وجہ سے نمایاں اضافہ برقرار ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق صارفین کو ایک لیٹر پیٹرول اس کی بنیادی لاگت سے 125 روپے 42 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 112 روپے 54 پیسے اضافی ادا کرنا پڑ رہے ہیں، جس میں پیٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی، کسٹمز ڈیوٹی، فریٹ مارجن، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجنز شامل ہیں۔

دستاویزات کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول کی بنیادی لاگت 209 روپے 76 پیسے ہے، تاہم حکومت نے اس کی قیمت 335 روپے 18 پیسے فی لیٹر مقرر کر رکھی ہے۔ اس طرح صارفین بنیادی لاگت سے کہیں زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔

پیٹرول کی قیمت میں شامل مختلف مدات کے مطابق فی لیٹر 80 روپے پیٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 17 روپے 28 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 7 روپے 16 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز کا مارجن شامل ہے۔ ان تمام مدات کو ملا کر فی لیٹر پیٹرول پر 125 روپے 95 پیسے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 270 روپے 92 پیسے فی لیٹر ہے، جبکہ اس کی سرکاری قیمت 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ یوں صارفین ڈیزل کی بنیادی لاگت کے مقابلے میں بھی بھاری اضافی رقم ادا کر رہے ہیں۔

دستاویز کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل پر فی لیٹر 70 روپے 82 پیسے پیٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 15 روپے 68 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 4 روپے 53 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن وصول کیا جا رہا ہے۔ ان تمام مدات کو ملا کر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 112 روپے 54 پیسے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین معاشیات کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں شامل ٹیکسز اور لیویز کا براہ راست اثر مہنگائی، ٹرانسپورٹ کے کرایوں، زرعی لاگت اور صنعتی پیداوار پر پڑتا ہے۔ جب پیٹرول اور ڈیزل مہنگے ہوتے ہیں تو اشیائے خورونوش سمیت روزمرہ استعمال کی متعدد مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں، جس کا بوجھ بالآخر عام شہری پر منتقل ہوتا ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایک جانب محصولات میں اضافے کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ دوسری جانب عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ان کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا مکمل فائدہ صارفین تک پہنچانے کے لیے قیمتوں کے تعین کے موجودہ نظام اور ٹیکس ڈھانچے کا جائزہ لینا ضروری ہے، تاکہ عوام پر بڑھتے ہوئے مالی بوجھ میں کسی حد تک کمی لائی جا سکے۔

More News