مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی برقرار، شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت
لاہور: پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ مون سون کی مسلسل بارشوں کے باعث صوبے کے مختلف دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرار ہے، تاہم بعض مقامات پر پانی کے بہاؤ میں کمی بھی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ادارے نے دریاؤں کے کنارے اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور ضرورت پڑنے پر فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ مجموعی طور پر مستحکم رہا۔ دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ اور تونسہ کے مقامات پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔ کالا باغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 73 ہزار کیوسک، چشمہ میں 3 لاکھ 13 ہزار کیوسک جبکہ تونسہ بیراج پر 3 لاکھ 64 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
ادھر دریائے چناب میں سیلابی صورتحال میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق خانکی، قادر آباد اور تریموں کے مقامات پر اب نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ خانکی پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 20 ہزار کیوسک، قادر آباد پر 1 لاکھ 23 ہزار کیوسک جبکہ تریموں میں 1 لاکھ 84 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔
رپورٹ کے مطابق دریائے ستلج اور دریائے جہلم میں پانی کا بہاؤ نارمل سطح پر ہے، جبکہ دریائے راوی میں سدھنائی کے مقام پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 60 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم جسڑ، شاہدرہ اور بلوکی کے مقامات پر صورتحال معمول کے مطابق ہے۔
پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ وزیرآباد کے نالہ پلکھو میں اونچے درجے جبکہ نارووال کے نالہ بسنتر میں نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال موجود ہے۔ نالہ پلکھو میں پانی کا بہاؤ 5 ہزار کیوسک اور نالہ بسنتر میں 3 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے کہا کہ بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کی آمد میں اضافہ ہوا، تاہم گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دریائے چناب کے بالائی کیچمنٹ ایریاز میں بارشیں رکنے سے سیلابی صورتحال میں بہتری آنا شروع ہو گئی ہے۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں کے کناروں پر غیر ضروری آمدورفت اور سیروتفریح سے گریز کریں۔ فلڈ ریلیف کیمپوں میں خوراک، ادویات، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ دریاؤں کی کراسنگ کے لیے معیاری کشتیوں اور لائف جیکٹس کی دستیابی یقینی بنائی جائے، جبکہ والدین اپنے بچوں کو ہرگز دریاؤں، نہروں اور برساتی نالوں میں نہانے نہ دیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔








