پرامن تعلیمی ماحول کے تحفظ کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار رہے گی: یو ای ٹی لاہور

پرامن تعلیمی ماحول کے تحفظ کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار رہے گی: یو ای ٹی لاہور

لاہور: یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) لاہور نے واضح کیا ہے کہ ادارے میں نظم و ضبط، قانون کی بالادستی اور طلبہ کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یونیورسٹی کے ترجمان نے بعض الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ انضباطی کارروائیوں کو اختلافِ رائے یا طلبہ کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے جوڑنا حقائق کے منافی ہے۔ ان کے مطابق تمام فیصلے صرف اور صرف شواہد، یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط اور شفاف قانونی طریقہ کار کی بنیاد پر کیے گئے۔

ترجمان نے بتایا کہ ہر انضباطی مقدمے کی تحقیقات متعلقہ ڈسپلنری کمیٹیوں نے غیر جانبدارانہ انداز میں کیں۔ ان تحقیقات میں سی سی ٹی وی فوٹیج، تحریری وضاحتیں، عینی شاہدین کے بیانات، سوشل میڈیا ریکارڈ، دستیاب شواہد اور متعلقہ طلبہ کی ذاتی سماعتوں کو مدنظر رکھا گیا۔ ہر طالب علم کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور صفائی کا مکمل موقع دیا گیا، جس کے بعد میرٹ اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کیے گئے۔

یو ای ٹی کے مطابق گزشتہ ایک سال اور نو ماہ کے دوران مختلف انضباطی مقدمات میں مجموعی طور پر 43 طلبہ تحقیقات کے عمل سے گزرے۔ ان میں سے 9 طلبہ کو یونیورسٹی سے اخراج، 13 کو ایک سمسٹر کے لیے رسٹیکیٹ، جبکہ 14 طلبہ پر مختلف نوعیت کے مالی جرمانے عائد کیے گئے۔ اسی عرصے میں 7 طلبہ کو الزامات ثابت نہ ہونے یا شواہد ناکافی ہونے پر مکمل طور پر بری قرار دیا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہر کیس کا انفرادی اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا گیا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ کے ایس کے کیمپس میں مختلف انضباطی مقدمات کے تحت 29 طلبہ زیرِ تفتیش آئے۔ تحقیقات مکمل ہونے پر 5 طلبہ کو اخراج، 11 کو رسٹیکیشن، 6 پر مالی جرمانے جبکہ 7 طلبہ کو بے گناہ قرار دے کر بری کر دیا گیا۔ اسی طرح لاہور کیمپس میں 14 طلبہ کے خلاف کارروائی کی گئی، جن میں 4 کو اخراج، 2 کو رسٹیکیشن اور 8 کو مالی جرمانے کی سزا دی گئی۔

بیان میں ہاسٹل میں ایک طالب علم پر نقاب پوش افراد کے حملے کے واقعے کا بھی ذکر کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی گئیں، جن میں متاثرہ طالب علم، عینی شاہدین اور ہاسٹل انتظامیہ کے بیانات قلمبند کیے گئے جبکہ سی سی ٹی وی ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔ دستیاب شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار طالب علم کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے یونیورسٹی سے خارج کر دیا گیا۔ اسی طرح جنید جمشید اسٹیڈیم میں پیش آنے والے جھگڑے، دھونس اور تشدد کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف بھی ضابطہ اخلاق کے مطابق کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ترجمان نے کہا کہ بعض مقدمات میں الزامات کی نوعیت ایسی تھی کہ قانونی طور پر ایف آئی آر درج ہو سکتی تھی، تاہم ڈسپلنری کمیٹی نے طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے نسبتاً نرم سزائیں تجویز کیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق تمام سزا یافتہ طلبہ کو ایپلٹ کمیٹی کے سامنے اپیل کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔

خالد ہال میں بغیر الاٹمنٹ رہائش اختیار کرنے والی طالبات کے خلاف کارروائی کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ یہ فیصلہ صرف ہاسٹل قوانین پر عمل درآمد کے لیے کیا گیا اور اس کا کسی سیاسی یا تنظیمی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسی طرح نیو کیمپس میں چند ماہ قبل ایک طالب علم کے انتقال کے واقعے پر بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ طالب علم کو فوری طبی امداد فراہم کر کے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ گردن توڑ بخار کے باعث جانبر نہ ہو سکا۔ ترجمان کے مطابق مرحوم کے اہل خانہ نے انتظامیہ پر کسی قسم کی غفلت کا الزام نہیں لگایا، لیکن بعض حلقوں نے اس افسوسناک واقعے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔

یو ای ٹی لاہور کے ترجمان نے کہا کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر کی قیادت میں یونیورسٹی انتظامیہ قانون کی یکساں عملداری، طلبہ کے تحفظ، شفاف احتساب اور پُرامن تعلیمی ماحول کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ادارہ طلبہ کے جائز حقوق، تعمیری مکالمے اور مثبت سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتا رہے گا، تاہم تشدد، ہراسانی، دھونس، بدامنی، غلط معلومات کے پھیلاؤ اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد جاری رکھا جائے گا۔

More News