آٹے کی سرکاری قیمت مقرر! بالآخرحکومت نے فیصلہ سنا دیا

خیبر پختونخوا میں آٹے کی سرکاری قیمت مقرر، فلور ملوں کو یومیہ 2 ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کا فیصلہ

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے سال 2026 کے لیے گندم کوٹہ جاری کرنے کی منظوری دیتے ہوئے صوبے بھر میں آٹے کی سرکاری قیمت مقرر کر دی ہے۔ محکمہ خوراک کے مطابق اس اقدام کا مقصد عوام کو معیاری آٹا مقررہ نرخوں پر فراہم کرنا، گندم کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا اور فلور ملوں کی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

محکمہ خوراک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صوبے کی فلور ملوں کو روزانہ 2 ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کی جائے گی، جبکہ تمام اضلاع کے لیے آبادی اور ضرورت کے مطابق یومیہ گندم کا کوٹہ بھی مختص کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری گندم فلور ملوں کو 11 ہزار 200 روپے فی 100 کلوگرام کے حساب سے فراہم کی جائے گی۔

حکومت کی جانب سے گندم کے اجرا کے بعد 20 کلوگرام آٹے کی ایکس مل قیمت 2 ہزار 500 روپے جبکہ ریٹیل قیمت 2 ہزار 520 روپے مقرر کی گئی ہے۔ محکمہ خوراک کا کہنا ہے کہ تمام فلور ملیں انہی نرخوں پر آٹا مارکیٹ میں فراہم کرنے کی پابند ہوں گی تاکہ صارفین کو مناسب قیمت پر معیاری آٹا دستیاب ہو سکے۔

مراسلے کے مطابق تمام آپریشنل فلور ملوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ فلور مل مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ کم از کم 30 روز کی ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ رکھیں تاکہ گندم کی تقسیم، آٹے کی تیاری اور دیگر مراحل کی نگرانی مؤثر انداز میں کی جا سکے۔

محکمہ خوراک نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ گندم کی فراہمی 2026 کے منظور شدہ ایس او پیز کے مطابق ہوگی۔ مزید برآں اگر سرکاری آٹے میں نمی کی شرح 13.5 فیصد سے زیادہ پائی گئی تو متعلقہ فلور مل کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

گندم کوٹے کی تفصیلات کے مطابق پشاور کو روزانہ سب سے زیادہ 218 میٹرک ٹن گندم فراہم کی جائے گی، جبکہ مردان کے لیے 125 میٹرک ٹن، صوابی کے لیے 87، چارسدہ کے لیے 84، نوشہرہ کے لیے 80، دیر لوئر کے لیے 76، سوات کے لیے 74 جبکہ باجوڑ اور اپر چترال کے لیے 59 میٹرک ٹن یومیہ گندم مختص کی گئی ہے۔ دیگر اضلاع کے لیے بھی آبادی کے تناسب سے کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔

فوڈ ڈائریکٹوریٹ نے تمام ڈویژنل اور ضلعی افسران کو احکامات جاری کر دیے ہیں کہ وہ گندم کی فراہمی، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور سرکاری نرخوں پر آٹے کی دستیابی کی مسلسل نگرانی کریں۔ حکام کے مطابق فلور ملوں کو گندم کی ترسیل مرحلہ وار یقینی بنائی جائے گی تاکہ کسی بھی ضلع میں آٹے کی قلت پیدا نہ ہو۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ نئے نظام کے ذریعے سرکاری گندم کی تقسیم میں شفافیت لائی جائے گی، آٹے کے معیار کو بہتر بنایا جائے گا اور عوام کو مقررہ نرخوں پر معیاری آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

More News