پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کے لیے نئی فٹنس پالیسی جاری کر دی

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کے لیے نئی فٹنس پالیسی جاری کر دی

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن 2026 کے لیے نئی فٹنس پالیسی کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد ملکی کرکٹ میں فٹنس کے معیار کو بین الاقوامی سطح کے تقاضوں کے مطابق بنانا اور نوجوان کھلاڑیوں کی جسمانی استعداد کو بہتر کرنا ہے۔ نئی پالیسی کا اطلاق ریجنل، ڈیپارٹمنٹل، ضلعی اور زونل ٹیموں سمیت تمام ڈومیسٹک ڈھانچے پر ہوگا۔

پی سی بی کے مطابق نئی فٹنس پالیسی تمام عمر کے کھلاڑیوں کے لیے مرتب کی گئی ہے، جس کے تحت صرف فٹنس ٹیسٹ ہی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کی جسمانی بہتری کے لیے ایک جامع منصوبہ بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کھلاڑیوں کی کارکردگی میں بہتری، انجریز میں کمی اور بین الاقوامی کرکٹ کے لیے بہتر تیاری ممکن ہو سکے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بتایا کہ یہ فٹنس پلان ڈائریکٹر اسپورٹس اینڈ ایکسرسائز میڈیسن جاوید مغل نے تیار کیا ہے، جبکہ پالیسی کو جدید سائنسی اصولوں اور عالمی کرکٹ میں رائج فٹنس معیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔

نئی پالیسی کے تحت کھلاڑیوں کو دو مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ٹائر ون میں ریجنل، فرسٹ کلاس اور گریڈ ٹو ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کے کھلاڑی شامل ہوں گے، جبکہ ٹائر ٹو میں سینئر ڈسٹرکٹ، انڈر 19، انڈر 17 اور انڈر 15 ٹیموں کے کھلاڑی شامل کیے گئے ہیں۔

پی سی بی کے مطابق ٹائر ون کے کھلاڑیوں کو مجموعی طور پر 11 مختلف فٹنس ٹیسٹ دینا ہوں گے، جبکہ ٹائر ٹو کے کھلاڑی 8 مختلف فٹنس ٹیسٹ سے گزریں گے۔ ان ٹیسٹوں کے ذریعے کھلاڑیوں کی برداشت، طاقت، رفتار، پھرتی اور مجموعی جسمانی صلاحیت کا جائزہ لیا جائے گا۔

فٹنس پالیسی کے مطابق اگر ٹائر ون کا کوئی کھلاڑی 8 یا اس سے زیادہ ریڈ اسکور حاصل کرتا ہے تو وہ فٹنس ٹیسٹ میں ناکام تصور ہوگا، جبکہ ٹائر ٹو میں 6 یا اس سے زیادہ ریڈ اسکور پر بھی کھلاڑی کو فیل قرار دیا جائے گا۔ ایسے تمام کھلاڑیوں کو دوبارہ مکمل فٹنس ٹیسٹ دینا ہوگا تاکہ وہ مطلوبہ معیار پر پورا اتر سکیں۔

واضح رہے کہ پی سی بی نے گزشتہ سیزن میں بھی ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے فٹنس پالیسی متعارف کرائی تھی، جس کے تحت تمام ریجنل کھلاڑیوں کے لیے فٹنس ٹیسٹ لازمی قرار دیے گئے تھے۔ نئی پالیسی کو اس سلسلے کی توسیع قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد مستقبل کے قومی کرکٹرز کو عالمی معیار کے مطابق تیار کرنا ہے۔

More News