مون سون سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات مؤثر، این ڈی ایم اے میں وفاقی وزرا کو بریفنگ
اسلام آباد: وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا تنویر حسین، مصدق ملک، میاں محمد معین وٹو، سینیٹر محمد اورنگزیب اور عطاء اللہ تارڑ نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں انہیں مون سون بارشوں، سیلابی صورتحال، ہنگامی امدادی کارروائیوں اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
دورے کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ این ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ اداروں نے مؤثر ارلی وارننگ سسٹم کے قیام پر بھرپور کام کیا ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کو بروقت موسمی اطلاعات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بروقت انتباہ کے نظام کی بدولت عوام کو ممکنہ خطرات سے پہلے آگاہ کیا جا رہا ہے، جس سے جانی و مالی نقصان میں کمی لانے میں مدد مل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال مون سون بارشوں کے دوران وفاقی حکومت کا ردعمل مؤثر رہا اور ارلی وارننگ سسٹم کو مزید مضبوط بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطہ اور تعاون جاری رکھا گیا۔
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا معاملہ عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے وہ ممالک بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں جن کا عالمی آلودگی میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے عالمی برادری کو مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر برائے آبی وسائل محمد معین وٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبے مستقبل میں پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد میں نمایاں اضافہ کریں گے اور آبی وسائل کے بہتر انتظام میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی پاکستان سمیت دنیا کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی بینک کے تعاون سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے آگاہی مہم بھی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے تباہ کن سیلابوں نے ملکی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے، تاہم قدرتی آفات کے دوران حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتی ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے مون سون شروع ہونے سے قبل ہی حفاظتی اقدامات کا آغاز کر دیا تھا۔ ان کے مطابق حالیہ بارشوں کے دوران زیادہ تر اموات سیلاب کے باعث نہیں بلکہ کمزور انفراسٹرکچر گرنے کے نتیجے میں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کمیٹی روزانہ اجلاس منعقد کر رہی ہے تاکہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بروقت ریسکیو اور ریلیف آپریشنز، بہتر منصوبہ بندی اور زرعی شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔








