امریکا اور ایران مفاہمتی یادداشت کی بحالی کے قریب، ثالثی کوششیں تیز
واشنگٹن/تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک ایک نئی مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) کی بحالی کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق پاکستان، قطر اور عمان سمیت خطے کے اہم ممالک دونوں فریقین کے درمیان اختلافات کم کرنے اور مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالثی کرنے والے ممالک کو امید ہے کہ امریکا اور ایران جلد ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جس کے تحت پہلے ناکام ہونے والی مفاہمتی یادداشت کو دوبارہ نافذ کیا جائے گا۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے اور سفارتی تعلقات میں بہتری کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان، قطر، عمان اور مصر کے مذاکرات کار مختلف حساس امور پر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے نظام، تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت اور سکیورٹی سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں شامل فریقین آبنائے ہرمز کے انتظامی طریقہ کار سے متعلق اختلافات کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ عالمی تجارت، خصوصاً تیل کی ترسیل، بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اس لیے اس خطے میں استحکام عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت بحال ہو جاتی ہے تو نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی، عالمی توانائی منڈی میں استحکام اور سفارتی ماحول بہتر ہونے کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔ تاہم حتمی معاہدے سے قبل کئی تکنیکی اور سیاسی معاملات پر اتفاق رائے ضروری ہوگا۔








