امریکا کو اپنے اقدامات کی قیمت چکانی ہو گی، ایرانی سپیکر باقر قالیباف

امریکا کو اپنے اقدامات کی قیمت چکانا ہوگی، ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کا سخت انتباہ

تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کی قیمت واشنگٹن کو ضرور چکانا پڑے گی۔ انہوں نے قشم جزیرے پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بے گناہ شہریوں پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ ایسے واقعات ایرانی عوام کے عزم کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ قشم کا واقعہ میناب اور لامرد میں پیش آنے والے واقعات کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق امریکا کی کارروائیوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور امریکا کو اپنے فیصلوں کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی قشم جزیرے پر امریکی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کارروائی میں ایک میاں بیوی اور ان کا دو سالہ بچہ جاں بحق ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر دھماکہ، ہر پابندی، ہر دھمکی اور ہر بے گناہ بچے کا قتل ایرانی عوام کے حوصلے پست کرنے کے بجائے انہیں اپنے وطن کے دفاع کے لیے مزید متحد اور پرعزم بناتا ہے۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مصر کی ایک بندرگاہ پر دو جہازوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے کو اسرائیل کا مبینہ “فالس فلیگ آپریشن” قرار دیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ خطے کے ممالک کو ایسی کارروائیوں سے ہوشیار رہنا چاہیے جن کا مقصد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھانا اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانا ہے۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران مصر کو اپنا قریبی دوست اور خطے کا اہم شراکت دار سمجھتا ہے اور اس کی سلامتی کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور باہمی تعاون پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے تاکہ خطے کو مزید عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔

ادھر امریکا نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کرتے ہوئے 10 اداروں اور 8 آئل ٹینکروں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ پابندیاں ایران کی ان سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے لگائی گئی ہیں جن کے ذریعے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز سے مالی فوائد حاصل کیے جا رہے تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بیانات اور نئی پابندیوں کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ عالمی برادری خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

More News