کمانڈرنیشنل اسٹریٹجک کمانڈجنرل سیدعامر رضاکونشان امتیاز(ملٹری) عطاکرنےکی منظوری

کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا کو نشانِ امتیاز (ملٹری) عطا کرنے کی منظوری

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا کو ملک کے اعلیٰ عسکری اعزاز نشانِ امتیاز (ملٹری) عطا کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اعزاز قومی دفاع، پیشہ ورانہ خدمات اور مسلح افواج میں نمایاں کردار کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ جنرل عامر رضا کو حال ہی میں فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ تعینات کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں یہ اہم اعزاز دینے کی منظوری سامنے آئی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیتے ہوئے انہیں کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کرنے کی منظوری دی تھی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق جنرل عامر رضا اس سے قبل ہلالِ امتیاز (ملٹری) اور ستارۂ بسالت جیسے اہم عسکری اعزازات بھی حاصل کر چکے ہیں، جبکہ وہ چیف آف جنرل اسٹاف (سی جی ایس) کے طور پر بھی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل عامر رضا کو ترقی اور نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔ وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ جنرل عامر رضا اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، تجربے اور قائدانہ صلاحیتوں سے ملک کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

جنرل عامر رضا کے عسکری کیریئر پر نظر ڈالیں تو انہوں نے 1988 میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے اعلیٰ عسکری تعلیم حاصل کر چکے ہیں، جبکہ برطانیہ کی یونیورسٹی آف نوٹنگھم سے بین الاقوامی تعلقات میں بھی ڈگری رکھتے ہیں۔ اپنے طویل فوجی کیریئر کے دوران وہ مختلف اہم کمانڈ اور اسٹاف عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جن میں کمانڈر فور کور، چیئرمین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا اور چیف آف جنرل اسٹاف جیسے اہم عہدے شامل ہیں۔

کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا عہدہ پاکستان کی قومی سلامتی اور دفاعی حکمت عملی کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ برس 27ویں آئینی ترمیم کے تحت فوج کے کمانڈ اسٹرکچر میں بڑی تبدیلیاں کی گئی تھیں، جن کے نتیجے میں اس عہدے کو تخلیق کیا گیا۔ اس منصب کے قیام کا مقصد ملک کے اسٹریٹجک اور نیوکلیئر اثاثوں کے انتظام کو مزید مؤثر اور مربوط بنانا تھا۔ اس سے قبل یہ ذمہ داریاں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے پاس تھیں، تاہم نئی آئینی ترمیم کے بعد انہیں نئے کمانڈ اسٹرکچر کے تحت منتقل کر دیا گیا۔

ترمیم کے مطابق کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی تقرری، دوبارہ تقرری یا مدتِ ملازمت میں توسیع چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کی سفارش پر عمل میں آتی ہے۔ اسی آئینی ترمیم کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ بھی متعارف کرایا گیا، جس کا مقصد تینوں مسلح افواج کے درمیان مربوط کمانڈ سسٹم کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق جنرل سید عامر رضا کی تقرری اور انہیں نشانِ امتیاز (ملٹری) عطا کرنے کی منظوری ان کی پیشہ ورانہ خدمات پر اعتماد اور قومی دفاع میں ان کے کردار کا واضح اظہار ہے۔

More News

Breaking

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں غیرقانونی بھرتیوں کی تحقیقات کا معاملہ، ہسپتال انتظامیہ کا ینٹی کرپشن کو تحقیقات معطل کرنے کے لیےخط

پشاور: حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات مؤخر کرنے کی درخواست پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (HMC) میں مبینہ غیر

Read More »