عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی، ماہانہ بنیاد پر 20 فیصد اضافے کاامکان

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی، ماہانہ بنیاد پر 20 فیصد اضافے کا امکان برقرار

لندن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری جغرافیائی کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کے روز ایک ڈالر سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جولائی کے اختتام پر دونوں بڑے عالمی آئل بینچ مارکس اب بھی ماہانہ بنیاد پر تقریباً 20 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال اب بھی عالمی توانائی مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 1.03 ڈالر یا 1.2 فیصد کمی کے بعد 88 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 1.50 ڈالر یا 1.8 فیصد سستا ہو کر 82.09 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ اگرچہ یومیہ بنیاد پر قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، لیکن ماہانہ کارکردگی اب بھی نمایاں اضافے کی نشاندہی کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتوں میں حالیہ کمی کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں بہتری کے اشارے ہیں، جس سے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کسی حد تک کم ہوئے ہیں۔ دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اسی اہم بحری راستے سے گزرتا ہے، اس لیے یہاں معمول کی بحالی نے سرمایہ کاروں کو کچھ اطمینان فراہم کیا ہے۔

اے این زیڈ بینک کے سینئر کموڈیٹی تجزیہ کار ڈینیل ہائنس کے مطابق اگرچہ مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی کشیدگی بدستور برقرار ہے، تاہم آبنائے ہرمز سے تیل کی روانی میں بہتری نے مارکیٹ کے خدشات کو وقتی طور پر کم کیا ہے۔ ان کے مطابق جب تک خطے کی صورتحال مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوتی، عالمی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب نے باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں توانائی کی ترسیل کے اہم بحری راستوں کے تحفظ کے لیے ایک کثیرالملکی دفاعی اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اتحاد کا مقصد عالمی تجارتی جہاز رانی اور تیل کی سپلائی کو محفوظ بنانا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ رکاوٹ سے عالمی منڈی متاثر نہ ہو۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بحیرہ احمر میں جہاز رانی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ گزشتہ دنوں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان اور سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کے بعد خطے میں توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے تھے۔ ان حالات کے باعث سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے پیش نظر اپنی تیل برآمدات کا بڑا حصہ بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کی جانب منتقل کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے، لیکن مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، عالمی سپلائی چین کو درپیش خطرات اور بحری راستوں کی غیر یقینی صورتحال کے باعث آئندہ ہفتوں میں قیمتوں میں دوبارہ اضافہ بھی خارج از امکان نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار خطے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ معمولی پیش رفت بھی عالمی تیل مارکیٹ کو متاثر کر سکتی ہے۔

More News

Breaking

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں غیرقانونی بھرتیوں کی تحقیقات کا معاملہ، ہسپتال انتظامیہ کا ینٹی کرپشن کو تحقیقات معطل کرنے کے لیےخط

پشاور: حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات مؤخر کرنے کی درخواست پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (HMC) میں مبینہ غیر

Read More »