عالمی فٹبال میں ایک بڑا تنازع سامنے آیا ہے جہاں یورپی فٹبال کی گورننگ باڈی یوئیفا (UEFA) نے فیفا (FIFA) کے مجوزہ نجی سرمایہ کاری منصوبے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اگر فیفا نے اپنے عالمی مقابلوں میں نجی سرمایہ کاروں کو ملکیتی حصہ دینے کی تجویز واپس نہ لی تو یورپ کی تمام رکن قومی فٹبال ایسوسی ایشنز فیفا کے تمام ٹورنامنٹس کا بائیکاٹ کریں گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یوئیفا اور اس کے 55 رکن ممالک نے اس معاملے پر متفقہ طور پر مؤقف اختیار کیا ہے۔ یورپی فٹبال حکام کا کہنا ہے کہ عالمی مقابلوں کی ملکیت یا ان کے تجارتی حقوق نجی سرمایہ کاروں کے حوالے کرنے سے کھیل کی خودمختاری، شفافیت اور عالمی فٹبال کے بنیادی اصول متاثر ہوں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایسے فیصلے صرف تمام براعظمی کنفیڈریشنز کی مکمل مشاورت اور اتفاق رائے سے ہی کیے جانے چاہئیں۔
رپورٹس کے مطابق فیفا کی جانب سے عالمی کپ سمیت دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں سرمایہ کاری کے نئے ماڈل پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت نجی سرمایہ کاروں کو مخصوص مالی مفادات یا ملکیتی حقوق دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ تاہم یوئیفا نے اسے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس منصوبے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
یوئیفا نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ جب تک یہ تجویز مکمل طور پر ختم نہیں کی جاتی اور فیفا مستقبل میں بھی اپنے مقابلوں کو نجی ملکیت کے لیے نہ کھولنے کی ضمانت نہیں دیتا، اس وقت تک یورپ کی کوئی بھی قومی ٹیم فیفا کے کسی عالمی مقابلے میں حصہ نہیں لے گی۔
اس تنازع نے آئندہ برس برازیل میں شیڈول 2027 ویمنز ورلڈ کپ سمیت فیفا کے دیگر بڑے ایونٹس پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ اگر یورپی ٹیمیں واقعی بائیکاٹ کرتی ہیں تو عالمی مقابلوں کی مسابقت، مالی حیثیت اور ناظرین کی دلچسپی پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ مردوں اور خواتین کی عالمی درجہ بندی میں سرفہرست کئی ٹیمیں یورپ سے تعلق رکھتی ہیں۔
دوسری جانب ایشین فٹبال کنفیڈریشن (AFC) نے بھی اپنے 47 رکن ممالک کو خط ارسال کرتے ہوئے اس معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اے ایف سی کا کہنا ہے کہ عالمی فٹبال کے مستقبل سے متعلق کسی بھی اہم فیصلے کے لیے تمام چھ براعظمی کنفیڈریشنز کی حمایت ناگزیر ہے، بصورت دیگر ایسی تجاویز عالمی سطح پر قابل قبول نہیں ہوں گی۔
اب فٹبال شائقین کی نظریں فیفا کے آئندہ ردعمل پر مرکوز ہیں۔ اگر دونوں عالمی اداروں کے درمیان اختلافات برقرار رہے تو یہ تنازع نہ صرف ورلڈ کپ بلکہ عالمی فٹبال کے انتظامی ڈھانچے اور مستقبل کے بڑے ٹورنامنٹس پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔








