دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز ویسٹ انڈیز نے 5 وکٹوں پر 239 رنز بنا لیے

دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز ویسٹ انڈیز نے 5 وکٹوں پر 239 رنز بنا لیے

ٹرینیڈاڈ: پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوسرے اور آخری ٹیسٹ کے پہلے روز میزبان ٹیم نے محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے کھیل کے اختتام تک 74 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 239 رنز بنا لیے۔ پہلے روز کے اختتام پر جسٹن گریوز 64 رنز جبکہ کپتان روسٹن چیز 36 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے اور دوسرے روز اپنی ٹیم کی اننگز کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کریں گے۔

میچ کا آغاز بارش کی وجہ سے تقریباً پندرہ منٹ تاخیر سے ہوا جبکہ خراب موسم کے باعث پہلے سیشن میں محدود اوورز کا کھیل ممکن ہو سکا۔ ٹاس جیتنے کے بعد ویسٹ انڈیز نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، تاہم پاکستانی بولرز نے ابتدا ہی سے نظم و ضبط کے ساتھ گیند بازی کرتے ہوئے میزبان بیٹرز کو آسانی سے کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔

پاکستان نے اس میچ کے لیے اپنی ٹیم میں چار تبدیلیاں کیں۔ عبداللہ شفیق، اویس ظفر، ساجد خان اور عبید شاہ کو پلیئنگ الیون میں شامل کیا گیا، جبکہ اویس ظفر اور عبید شاہ نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا۔ عبید شاہ کو محمد عباس اور اویس ظفر کو بابر اعظم نے ٹیسٹ ڈیبیو کیپ پیش کی۔

پہلے سیشن میں ویسٹ انڈیز نے ایک وکٹ کے نقصان پر 49 رنز بنائے، جہاں تیج نرائن چندرپال 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ دوسرے سیشن میں پاکستانی بولرز نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے مزید تین وکٹیں حاصل کیں۔ برینڈن کنگ 46 رنز بنا کر نمایاں رہے، جبکہ کیوم ہوج 10 اور عامر جنگو 26 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

تیسرے سیشن میں جسٹن گریوز اور شائے ہوپ نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچویں وکٹ کے لیے 53 رنز کی اہم شراکت قائم کی، جس سے ویسٹ انڈیز کی پوزیشن مستحکم ہوئی۔ تاہم شائے ہوپ 29 رنز بنا کر محمد علی کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد کپتان روسٹن چیز نے جسٹن گریوز کا بھرپور ساتھ دیا اور دونوں نے مزید کوئی وکٹ گرنے نہیں دی۔

خراب روشنی کے باعث امپائرز نے مقررہ وقت سے قبل ہی پہلے روز کا کھیل ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس وقت ویسٹ انڈیز کا مجموعی اسکور 239 رنز تھا اور اس کی پانچ وکٹیں گر چکی تھیں۔

پاکستان کی جانب سے محمد علی سب سے کامیاب بولر ثابت ہوئے جنہوں نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ ساجد خان، عبید شاہ اور علی عثمان نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ دوسرے روز پاکستان کی کوشش ہوگی کہ ویسٹ انڈیز کی باقی ماندہ وکٹیں جلد حاصل کرکے اسے کم سے کم اسکور تک محدود کیا جائے، جبکہ میزبان ٹیم اپنی پہلی اننگز کو بڑے مجموعے تک پہنچانے کی کوشش کرے گی۔

More News