پشاور ہائیکورٹ کا افغان صحافیوں کے حق میں اہم فیصلہ، تین افراد کو عارضی ریلیف

پشاور ہائیکورٹ کا افغان صحافیوں کے حق میں اہم فیصلہ، تین افراد کو عارضی ریلیف

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان میں مقیم دو افغان صحافیوں اور ایک افغان شہری کی عارضی قیام سے متعلق درخواستیں منظور کرتے ہوئے معاملہ حتمی فیصلے کے لیے وزارتِ داخلہ کو بھجوا دیا، جبکہ دیگر پانچ درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

دو رکنی بینچ، جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات نے آٹھ درخواستوں پر سماعت کی، جن میں افغان صحافیوں، افغان سپریم کورٹ کے سابق جج اور ملی اردو کے دو سابق جرنیل شامل تھے۔

سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکلین کو افغانستان میں جان کا شدید خطرہ ہے، طالبان نے ان کے گھروں کو بھی مسمار کر دیا ہے اور وہ مختلف ممالک میں پناہ کی درخواستیں دے چکے ہیں، اس لیے تیسرے ملک منتقلی تک انہیں پاکستان میں عارضی قیام کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کن درخواست گزاروں کے پاس سفارشی خطوط موجود ہیں، جس پر بتایا گیا کہ صرف دو افغان صحافیوں اور امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے محمد نوید عمری کے پاس ریکمنڈیشن لیٹرز موجود ہیں۔

دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے دو افغان صحافیوں اور محمد نوید عمری کا معاملہ دو ماہ میں نمٹانے کی ہدایت کے ساتھ وزارتِ داخلہ کو ارسال کر دیا اور پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا کہ حتمی فیصلے تک ان تینوں افراد کو گرفتار یا ڈی پورٹ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب عدالت نے باقی پانچ درخواست گزاروں کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

More News