خیبر پختونخوا پولیس ہائی الرٹ، نئی سیکیورٹی ایڈوائزری جاری
پشاور: خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے بعد صوبائی پولیس نے سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام متعلقہ یونٹس کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اس سلسلے میں اے آئی جی آپریشنز خیبر پختونخوا کی جانب سے صوبے بھر کے پولیس افسران اور فیلڈ فارمیشنز کے نام ایک جامع سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کی گئی ہے، جس میں فورس کی حفاظت اور حساس تنصیبات کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
جاری مراسلے کے مطابق حالیہ دہشت گردی کے واقعات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد تمام ریجنل پولیس افسران (RPOs)، ضلعی پولیس افسران (DPOs)، کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (CCPO) پشاور، ایس ایس پی آپریشنز پشاور اور دیگر متعلقہ حکام کو اپنی حدود میں سیکیورٹی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی نقل و حرکت، گشت، چیک پوسٹوں اور پولیس تنصیبات کی حفاظت کے لیے اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔
ایڈوائزری میں سپیشل برانچ خیبر پختونخوا کی تازہ انٹیلی جنس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں پولیس فورس کو زیادہ محتاط رہنے اور سیکیورٹی پروٹوکول پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اہلکاروں کی ڈیوٹی، گشت کے اوقات اور روٹس کا ازسرنو جائزہ لیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
نوٹیفکیشن میں پشاور سمیت صوبے کے تمام حساس اضلاع میں پولیس لائنز، تھانوں، سرکاری دفاتر، اہم سرکاری عمارتوں اور دیگر حساس مقامات کی سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اہلکاروں کو حفاظتی سازوسامان کے استعمال، مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے اور فوری ردعمل کے لیے ہر وقت تیار رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔
اے آئی جی آپریشنز نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ جاری کردہ سیکیورٹی ایڈوائزری پر فوری عمل درآمد یقینی بنائیں اور کیے گئے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ 6 اگست 2026 تک آپریشنز برانچ کو ارسال کریں۔ پولیس حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد دہشت گردی کے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنا، پولیس اہلکاروں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا اور صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سیکیورٹی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، بروقت انٹیلی جنس شیئرنگ اور سخت حفاظتی اقدامات ہی ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔








