عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی، امریکا اور ایران کے ممکنہ معاہدے سے سرمایہ کار پُرامید
لندن: امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت اور جاری مذاکرات سے متعلق مثبت توقعات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کار اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی آئے گی، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی منڈی مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں پیش رفت سامنے آنے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ دیکھا گیا۔ سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ ان مذاکرات کے مثبت نتائج امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری کی راہ ہموار کر سکتے ہیں، جس سے تیل کی رسد سے متعلق خدشات بھی کم ہوں گے۔
تازہ کاروباری اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 37 سینٹ یا تقریباً 0.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 79.08 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 53 سینٹ یا 0.7 فیصد کم ہو کر 74.69 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں میں یہ کمی محدود نوعیت کی ہے، تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار خطے کی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں اضافے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، جس سے قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ بدھ کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوئی تھی، تاہم جمعرات کو سامنے آنے والی سفارتی پیش رفت نے مارکیٹ کا رجحان تبدیل کر دیا۔ سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ پانچ ماہ سے جاری کشیدگی کے خاتمے کی صورت میں خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کسی ممکنہ معاہدے کی صورت میں آبنائے ہرمز، جو دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، دوبارہ مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھل سکتی ہے۔ اس پیش رفت سے عالمی سطح پر خام تیل کی ترسیل میں آسانی پیدا ہوگی، سپلائی کے خدشات کم ہوں گے اور توانائی کی منڈی میں استحکام آنے کے امکانات مزید روشن ہو جائیں گے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران مذاکرات کی رفتار اور سیاسی فیصلے عالمی تیل کی قیمتوں کے مستقبل کا تعین کریں گے۔





