بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے، نوٹیفکیشن جاری
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں کرتے ہوئے مختلف افسران کے تقرر و تبادلے، خدمات کی واپسی، مطالعاتی رخصت کی منظوری، ملازمت پر بحالی اور محکمانہ سزائیں ختم کرنے کے فیصلے کیے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان تمام انتظامی فیصلوں کے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیئے ہیں، جن کے تحت مختلف گروپس اور محکموں سے تعلق رکھنے والے افسران کو نئی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تقرری کے منتظر سیکریٹریٹ گروپ کے گریڈ 19 کے افسر محمد حسن عبداللہ ملک کی خدمات نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے سپرد کردی گئی ہیں۔ اسی طرح اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں تقرری کے منتظر سید زواد حیدر کو سیکشن افسر تعینات کیا گیا ہے، جبکہ نسرین فرحان کا تبادلہ ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کردیا گیا ہے۔
دفاع ڈویژن کی سیکشن افسر عظمٰی ناز ستی کو او ایس ڈی بنا کر اگست 2026 سے جولائی 2028 تک مطالعاتی رخصت منظور کی گئی ہے۔ خیبرپختونخوا میں تعینات پولیس سروس کے گریڈ 17 کے افسر حامد احسان وڑائچ کو بھی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور انہیں اگست 2027 تک مطالعاتی رخصت دی گئی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں تعینات گریڈ 18 کے آڈٹ افسر فیصل اقبال کو ان کے پیرنٹ ڈیپارٹمنٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان واپس بھیج دیا گیا ہے۔ محمد عارف تحسین کی بطور ڈپٹی سیکریٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی تعیناتی منسوخ کرکے انہیں وزارتِ انسانی حقوق میں ڈپٹی سیکریٹری مقرر کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب فیڈرل سروس ٹریبونل کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 18 کے افسر نعمان افضل اعوان پر عائد محکمانہ سزا بھی منسوخ کردی گئی ہے، جبکہ معطل سیکشن افسر حماد حسن کو ملازمت پر بحال کردیا گیا ہے۔





